Sunday, 23 December 2012

GHULAM MRTUZA

آغا مکارم سے اردو مین پوچھے گئے میرے سوالات اور انکے جوابات
پاکستان مین کچھہ جگاہون پر آگ کا ماتم کیا جاتا ہے جس مین عزادار آگ کے کوئلے سے گذر کر ماتم کرتے ہین، میرا سوال یہ ہے کے کیا آپ کی نظر مین اس طرح کا ماتم کرنا جائز ہے؟

جواب : امام حسین (علیہ السلام) کی عزاداری، دین کے مہم ترین نشانیوں میں سے ایک ہے اور اسی کی وجہ سے شیعیت باقی ہے۔ لیکن اس کو اس طرح سے برپا کرنا چاہئے کہ مذہب کی توہین نہ 
ہوا اور بدن کو کوئی نقصان نہ پہنچے.لیکن ذاکرین حضرات اپنی مجلسوں میں خلاف واقع شرک آمیز اشعار جن میں غلو پایا جاتا ہو، ان سے خود داری کریں اور مجالس میں موسیقی کے ان آلات کو بھی استعمال کرنا جو لہو و لعب اور اخلاقی فساد کے مانند ان کی طرز مناسبت رکھتے ہیں جائز نہیں ہے۔اور عزاداری کے وقت اگر مجلس میں عورتیں بھی ہوں تو برہنہ ہونا حرام ہے اور اگر عورتیں نہ ہو تو یہ کام ان مجلسوں کی شان کے خلاف ہے۔

کیا ایک سے زیادہ مرجع کی ایک ہی وقت مین تقلید کیا جاسکتی ہے؟جواب : اگر دونوں مجتهد مساوی هوں تو بعض مسائل میں ایک مجتهد کی اور بعض مسائل میں دوسرے مجتهد کی تقلید کی جاسکتی هے.

کیا تفسیر امام حسن عسکری کی نسبت امام حسن عسکری عہ سے ثابت ہے؟ جواب : ثابت نهیں هے

حضرت عائشہ کی نبی صہ سے شادی وقت عمر کیا تھی؟ جواب : مشهور یه هے که نو سال تهی

کیا آپ کے نزدیک مفضل بن عمر ایک ثقہ راوی ہے؟ جواب : ان کے موثق هونے میں اختلاف هے

کیا رحب عیسا ٰی کا واقعہ جو امام حسین سے منسوب ھے کے اما م کی دعا سے اسکے ھان اولاد ھوٰی کیا یہ واقعہ سند اور متن کے لحا ظ سے صحیح ھے ؟

جواب : اس طرح کی بات نقل کرنا همیں یاد نهیں هے. چنانچه اس بات کونقل کرنے والے سے سوال کریں هم اس کے صحیح یا غلط هونے کے بارے میں تحقیق کریں گے

کیا مولا علی کا ایک ہی وقت مین چالیس جگہ کھانا کھانے والا واقعہ سند اور متن کے لحاظ سے صحیح ہے؟ جواب : معتبر کتابوں میں ایسی کوئی روایت ذکر نهیں هوئی هے

حافظ رجب برسی کی جو کتاب مشارق أنوار الیقین فی حقائق أسرار أمیر المؤمنین علیه السلام ہے، کیا وہ آپ کے نزدیک ایک معتبر کتاب ہے؟ جواب : اس کتاب کا معتبر هونا همارے نزدیک ثابت نهیں هے ، آپ ایسی کتابوں سے استفاده کریں جن کی تائید زیاده هوئی هے

تفسیر نمونہ مین سورہ اعراف کی آیت 172 کی تفسیر مین آغا مکارم نے عالم ذر والے نظریے کو رد کیا ہے اور دوسرے نظریے (روح کی تخلیق اس وقت ہوتی ہے جب بچہ رحم مادر مین ہوتا ہے) کو مانا ہے۔ تو مجھے یہ معلوم کرنا تھا کے کیا آغا مکارم کے نزدیک آئمہ کی ارواح بھی الله نے اس وقت تخلق کین جب وہ رحم مادر مین تھے یا جو روایات اس سلسلے مین آئی ہین کے انکا نوری وجود آدم کی خلقت سے پہلے تھا تو وہ کیا روایات قابل قبول نہین ہے؟ جواب : هم نے جو لکها هے وه جسموں سے پهلے ارواح کی خلقت کی نفی نهیں کرتا هے خاص طور سے ائمه معصومین (علیهم السلام) کے سلسله میں..

کیا مصعب بن زبیر امیر مختار کا قاتل تھا؟ جواب : جی هاں اس کے سپاهیوں نے مختار ثفی کو قتل کیا تها.

کیا آئمہ معصومین ہر جگہ حاضر و ناظر ہین؟ جواب : وه اگر کسی چیز سے مطلع هونا چاهتے هیں تو خداوند عالم کے حکم سے مطلع هوجاتےهیں

کیا اذان مین حضرت فاطمہ زھرا عہ کی عصمت کی گواھی دے سکتے ہین؟ جواب : شهادت رابعه نه تو اذان و اقامت میں جائز هے اور نه نماز میں اور اس سے نماز باطل هوجاتی هے

کیا یہ بات صحیح ہے کے حضرت فاطمہ بنت حسین کی دوسری شادی عثمان بن عفان کے پوتے سے ہوئی تھی اور حضرت سکینہ بنت حسین کی شادی مصعب بن زبیر سے ہوئی تھی ؟جواب : معتبر تاریخی کتابوں میں یه بات نهیں ملی، اور جو بات مشهور هے وه یه هے که عثمان کی پیغمبر اکرم (ص) کی دو بیٹیوں سے هوئی تهی. حضرت سکینه کی شادی مصعب سے روایات میں بیان هوئی هے لیکن اس زمانه میں جب شادی هوئی تو مصعب منحرف نهیں هوا تها.

زیارت ناحیہ جسکی نسبت امام زمانہ ع کی طرف دی جاتی ہے جبکہ بعض علماء نے اس زیارت کی نسبت سید مرتضیٰ علم الھدی ٰ کی طرف دی ہے اور کیا یہ سید علم الھدیٰ کی انشاء کردہ ہے ؟ جواب : یه زیارت بعض کتابوں میں امام زمانه (ع) کی طرف سے نقل هوئی هے لیکن اس کا متن بعض اشکالات سے خالی نهیں هے. لهذا آپ اس کو قصد رجاء کی نیت سے پڑه سکتے هیں اور بهتر یه هے که معتبر زیارتیں جیسے زیارت جامعه ، زیارت امین الله اور زیارت عاشورا وغیره کو پڑهیں.

کیا مختا ر ثقفی محمد بن حنفیہ کی اما مت کو ما نتا تھا اور کیا وھ کیسا نیہ فرقہ کا با نی تھا؟جواب : یه بات ثابت نهیں هے

کیا وجہ ھے کے ھما ری کتب اربعہ مین نبی صہ کی احادیث کی تعداد بھت کم ھے

جواب : اہل بیت (علیهم السلام) سے جو کچه نقل هوا هے وه پیغمبر اکرم (ص) کی حدیث شمار ہوتی هے اگرچه سند میں اس بات کی وضاحت نهیں هوئی هے

ا حتجا ج طبر سی مین ا ما م زما نا ع سے ر وایت ھے کے غیبت مین خمس شیعو ن پر مبا ح ھے میرا سوال ھے کے کیا یے ر وایت سند کے لحا ض سے صحیح ھے؟ اور دوسرا سول یے ھے کے کیا خمس کی اداُگی پے ما ضی کے شیعا علما کے درمیان اختلا ف تھا؟

جواب : هم نے ایک کتاب بنام خمس پشتوانه استقلال بیت المال لکهی هے اس کا مطالعه کریں .اور جمع بین ادله وهی هے جس کو معاصر کے تمام فقهاء قبول کرتے هیں اور سب نے اپنی توضیح المسائل میں لکها هے .

کیا آئما معصو مین ع کی ولادت اسی طرح ھو تی ھے جس طرح عام انسا نون کی ھو تی ھے کیونکے ایک وھابی چینل پے یے پروپیگینڈا کیا جا رھا تھا کے شیعون کے مطا بق شیعون کے آئما کی و لا دت ران سے ھو تی ھے کیا یے با ت صحیح ھے؟

جواب : ان بزرگ هستیوں کی ولادت بهی فطری(عام) طریقه سے هوتی هے اور جو روایتیں اس سلسله میں وارد هوئی هیں وه ضعیف هیں

کیا آغا خا نی اسماعلی کا فر ھین یا مسلما ن؟جواب : اگر شهادتین کهتے هیں اور ضروریات اسلام کا انکار نهیں کرتے تو مسلمان هیں

کیا نبی صہ نور تھے یا بشر؟

جواب : وه بهی هماری طرح بشر تهے اوران پر خداوند عالم کی جانب سے وحی هوتی تهی.

کیا آئمہ معصومین کے روضے پے جاکے نعظیمی سجدہ کیا جا سکتا ہے؟

جواب : ان کاموں سے پرهیز کریں

MESUME TAMMAR

  • شیعوں پر عام طور سے کیا جانے والا اعتراض اور اس کا علمی جواب

    کہا جاتا ہے کہ شیعوں کو حضرت زینب س کی بددعا ہے لہٰذا یہ قیامت تک روتے رہیں گے۔

    جواب: یہ بات حضرت زینب س کے اس خطبے کے حوالے سے کہی جاتی ہے جو بی بی نے کوفہ میں دیا تھا۔ البتہ افسوس اس بات پر ہے کہ کچھ اس قسم کا ماحول شام میں بھی تھا لیکن وہاں کے لوگوں کی نسبت یہ بات کیوں نہیں کہی جاتی؟ یہ ایک ناانصافی ہے اور دوسری ناانصافی یہ کہ اگر بی بی نے کہا بھی ہے تو اہل کوفہ کو کہا ہے لیکن شیعوں کے ذمہ ڈال دیا گیا اور وہ بھی شیعیان حیدر کرار کے ذمہ۔ حالانکہ اس وقت شیعہ تو سب ہی تھے اور تو کوئی مذہب موجود ہی نہ تھا۔ ہاں تھوڑے سے لوگ شیعیان حیدر کرار تھے جو شیعیان علی ع کہلاتے تھے اور اکثریت یزید یا شیعیان

    ” مصیبت کے وقت دکھ اور غم کا اظہار کرنا یعنی عزاداری منانا اپنے اپنے علاقے کے رسم و رواج کے مطابق ایک حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ “

    معاویہ یا شیعیان عثمان کہلاتے تھے۔
    لہٰذا اس اعتراض کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ اُن لوگوں کے بارے میں تحقیق کی جائے کہ جنہیں بی بی نے یہ بددعا دی، وہ کون لوگ تھے اور کس گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ چونکہ اس وقت کوفہ کے اندر کم از کم چار گروہوں کے لوگ آباد تھے:
    ١۔ مروانیان، ٢۔ خوارج، ٣۔ عثمانیان، یعنی شیعہ عثمان کہ بہت سارے ان میں سے یزید کے ساتھ تھے اور کوفہ کی خبریں یزید کو پہنچاتے تھے، ٤۔ شیعیان علی ع، جو کہ بہت کم تعداد میں تھے۔
    یہاں ایک بات قابل ذکر ہے، وہ یہ کہ کوفہ والوں کو شیعہ کہا جاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کے سارے یا اکثریت شیعہ بمعنی اثناعشری اور واقعاً مخلص تھے۔ بلکہ وہ اس حوالے سے شیعہ تھے کہ حضرت علی ع کو معاویہ و عثمان پر ترجیح دیتے تھے جبکہ در واقع یا مروانی تھے یا خارجی۔۔۔ اور خیانت و منافقت کرنے سے بھی باز نہیں آتے تھے۔ انہی لوگوں کی وجہ سے اہل کوفہ بے وفائی میں شہرت رکھتے ہیں ورنہ شیعیان علی ع جو حقیقی معنیٰ میں شیعہ تھے وہ تو اس وقت بھی علی ع کے ساتھ تھے جب نیزوں پر قرآن بلند کر کے لشکر علی ع میں تفرقہ ڈالا گیا اور جو حقیقی شیعہ نہ تھے اور خارجی یا عثمانی یا مروانی تھے، وہ جدا ہو گئے۔ لیکن مخلص شیعہ اس وقت بھی حضرت علی ع کے ساتھ رہے۔ یہ مخلصین اسی طرح امام حسن و حسین علیہم السلام کے ساتھ بھِی رہے۔
    واقعہ عاشورا کے وقت بھی ان میں سے کچھ تو وہ تھے جو معاویہ کے مظالم کی وجہ سے اس دنیا سے چل بسے تھے اور کچھ وہ تھے جو ابن زیاد کی جیلوں میں تھے۔ کچھ وہ تھے جو کوشش کر کے کربلا پہنچ گئے اور وہاں شہید ہو گئے اور کچھ وہ تھے جو بے بس اور لاچار تھے اور ابن زیاد کی پابندیوں، ناکہ بندیوں اورخوف کی وجہ سے کچھ کر نہ سکتے تھے۔ لیکن بعد میں انہوں نے کبھی توابین کی شکل میں تو کبھی جناب مختار کی معیت میں قتل امام حسین ع کا انتقام لینے کی کوشش کی اور شہید ہو گئے۔ اب اس ساری صورت حال کو سامنے رکھیں اور عاشورا کے بعد کا وہ دن جس دن قافلہ کوفہ میں پہنچا ذہن میں رکھیں اور بتائیں کہ کیا اس وقت ایسے ماحول میں کوئی شیعہ کوفہ میں ہو گا؟۔ نہیں، اگر کوئی تھا بھی تو وہ زیرزمین تھا۔ اب کوفہ میں یا وہ لوگ تھے جو آل محمد ص کے دشمن تھے یا وہ لوگ تھے جو علی ع کو معاویہ و عثمان پر تو مقدم سمجھتے تھے لیکن مخلص بھی نہ تھے، دو رُخے تھے، انہوں نے امام حسین ع کا ساتھ بھی نہیں دیا، لیکن قتل پہ بھی راضی نہ تھے، اور اب رسول اکرم ص کی نواسیوں کو قیدی دیکھ کر شاید رو بھی رہے ہوں، اور بی بی نے اُن خارجیوں، عثمانیوں اور مروانیوں سے یہ سب کچھ کہا۔ پس ثابت ہوا کہ اگر بی بی نے بددعا دی ہے تو اُن مسلمانوں کو جو یا تو آل محمد ص کے دشمن تھے یا ایسے مسلمان تھے جو کہ آل محمد ص کی محبت کا دم بھی بھرتے تھے لیکن پارٹی اُن کی کوئی اور تھی، جیسے شیعیان عثمان یا خوارج یا مروانیان اور بی بی نے کسی بھی قیمت اپنے بابا کے شیعوں اور اپنے بھائی کے مخلص شیعوں کو جنہوں نے قتل حسین ع کا بدلہ لیا بددعا نہیں دی ہے۔ یہاں سے اس اعتراض کا جواب بھی مل جاتا ہے جس میں یہ کہا جاتا ہے کہ امام حسین ع کو کوفہ کے شیعوں نے خود بلایا اور پھر قتل کردیا۔ درست ہے کہ بلانے والے شیعہ تھے لیکن سارے مخلص شیعہ نہ تھے۔ یہ ایک بات اور دوسرا یہ کہ کوفہ میں صرف شیعہ نہ تھے، اور تیسری بات یہ کہ اُن بلانے والے مخلص شیعوں میں سے کوئی ایک بھی سپاہ یزید میں نہ تھا۔ اگر کوئی تھا اور پہنچ پایا تو لشکر امام حسین ع میں تھا اور امام ع کی طرف سے جہاد کرتا ہوا شہید ہوا۔ تعجب تو دوسرے شہروں کے مسلمانوں اور اصحاب پر ہے کہ جنہوں نے اس سب کچھ کے باوجود بھی امام ع کا ساتھ نہ دیا۔ قتل کرنے کیلئے تو شام سے بھی آ گئے لیکن ساتھ دینے کیلئے کوفہ کے چند مخلص شیعوں کے علاوہ کوئی بھی نہ آیا۔

WASEEM AHMED

Assalam o alaikum ,

Matam k lughwi maini sog mananey , afsos ka izhar karney aur gham ka izhar krney k hain Khaliq e kainat ney Insano ko apni bey shumar naimaton sey nawaza hai jin mein un k liye sub si bari naimat Anbiya aur  aima huda a.s ko qarar diya in k baad maan , baap aur biwi bachchay hain khuda ki naimaton mein sey ye who naimatain hain jin k uth janey sey insan apney gham ka izhar apney rasam o riwaj k mutabiq shuru sey karta chala aya hai gham aur afsos k iss izhar ko matam bhi kaha jata hai Naimat k milney per khushi aur iss k uth janey per gham ka izhar karna aik fitri amal hai lekin iss k bawajood shariat ney kisi naimat k hath sey chalay janey per  gham k izhar karney ki kuchh hadood muqarar ki hain jin per amal karnay hi sey 1 insan un logon per shamill ho jata hai jo hidayat yafta hotay hain aur jin per Surah Baqra ki ayat 155 to 157 k mutabiq  Khuda aur uss k malaika darood bhaijtay hain Matam ka ye silsila bohot purana hai qabl az islam musibat zada log apney gham ka izhar apney dastoor k mutabiq kartay thy uss waqt bhi ghamgeen honey walay 2 tarah k log thy ( 1 ) Hidayat yafta jo musibat mein mubtila ho janey per sabar ka daman hath sey nahi chhortay thy .  ( 2 ) Ghair hidayat yafta jo Anbiya aur aima huda a.s ki taleema’t per amal karney k bajaye apney dastoor k mutabiq apney gham ka izhar kar k matam kiya kartay thy aur apney iss tarz k matam ko guzray huway nabi sey bhi mansoob kar diya kartay thy jaisa k agay ref k sath darj kiya jai ga .
Zamana e jahiliyat mein Matam sey mutalliq ahkama’t :-
1 , Tum murdon ( mar janey walon ) k sabab sey apney jisim ko zakhmi na karna aur na apney ooper kuchh gudwana  .
Pakeezgi  aur  adal o insaf k qawaneen – Ahbar bab 19 ayat 28 The Holy Bible .
2 , Tum murdon k sabab sey apney aap ko zakhmi na karna aur na apney abru k ball mundwana .
Istasna – bab 14 Matam mein aik rasam ki mumaniyat .
3 , Nabi ki biwi ki wafat :- Phhir Khuda wand ka kalam mujh per nazil huwa k A Adam zad daikh mein teri manzoor e Nazar ko 1 hi zarb mein tujh sey Juda kar karu ga lekin too na matam karna na rona aur na ansu bahana chupkay chupkay ahain bharna murda per noha na karna sar per pagri bandhna aur paon ( feet ) mein jooti pehenna aur apney honton ko na dhanpna aur logon ki roti na khana .
Chapter Hizqeel bab 24 The Holy Bible .
Zamana jhiliyat mein bhi apney gham ka izhar karney ki kuchh sharait muqarar thy kuchh pabandiya thi jin per kuchh log amal kiya kartay thy aur ziyada tar log un pabandiyon ki parwah kiye baghair matam kiya aur karwaya kartay thy jaisa k darj zeel hai :-
1 , Aur Bani Israill Moosa a.s k liye moa’b k maidano mein 30 din tak rotay rahay phhir Moosa a.s k liye matam aur roney peetney k din khatam huway .
2 , Aur Dawood ne Yoaab sey aur un logon sey jo uss k sath thy kaha k apney kapray phharo aur tat pehno aur Anair k agay agay matam karo aur Badshah aap janazay k pichhay pichhay chala aur unhon ney Abnair ko Jabroon mein dafan kiya aur Badshah Abnair ki qabar per chilla chilla kar roya aur sub log bhi  roye aur Badshah ney Abnair per marsiya kaha .
 Samyol 2 Abnair ki tadfeen Bab 3 ayat 32 – 33 .
2 , Chhuriyon aur Nishtaron sey matam ki rasam :-  Aur dopeher ko aisa huwa k Ailiya ney un ko chira kar kaha k buland awaz sey pukaro kiyon k woh deota hai who kisi soch mein ho ga ya woh khalwat mein hai ya kahin safar mein ho ga shayad woh sota hai so zaroor hai k woh jagaya jai tab woh buland awaz sey pukarney lagay aur apney dastoor k mutabiq apney aap ko chhuriyon aur nishtaron sey ghayal kiya yahan tak k lahu lohan ho gaye .
Salateen 1 Bab 18 ayat 27- 28 the Holy Bible .
3 , Aag per chalaney ki rasam :-  Yahuda ka Badshah Akhiz , jab who saltanat karney laga tou 20 baras ka tha aur uss ney 16 baras Yoroshalam mein badhshahi ki aur uss ney woh kaam na kiya jo khuda wand uss k khuda ki nigah mein bhala tha jaisa k uss k baap Dawood ney kiya tha bal k woh Israill k badshahon ki rah per chala aur uss ney un qoumon k nafrati dastoor k mutabiq jin ko khuda wand ney bani Israill k samney kharij kar diya tha apney baitay ko bhi aag per chalwaya .
Salateen 2 Bab 16 ayat 1- 4
4 , Rab ul afwaj yu farmata hai k , socho aur matam karney wali aurton ko bulao k aain aur mahir aurton ko bulwa bhaijo k woh bhi aain aur jaldi karain hamaray liye noha uthain ta k hmari ankhon sey ansu jari hon aur hamari palkon sey sailab e ashk beh niklay A aurto Khuda wand ka kalam suno ! aur tumharay kaan uss k mooh ki baat qabool karain aur tum apni baitiyon ko noha gari aur apni parosano ko marsiya khuwani sikhao .
Yarmiyah Bab 9 ayat 7 , 18 aur 20 .
Zamana e Jahiliyat k iss tarz ka matam Nabi e Kareem s.a.w.w k dour tak kiya jata tha jang mein kuffar e Quraish ki aurtain maidan e jang mein apni foj k pichhay reh kar un ki bahaduri ki shan mein qaseeday parha karti thi aur marhoomeen per noha kar k apni foj ko dushman k khilaf uksaya karti thi jab k Rasool e khuda s.a.w.w. ney Islam k dairay mein dakhill honey walon sey sakhti sey aisay matam karney ka mana farmaya tha magar guzashta logon ki tarah kuchh logon ney apney Nabi e Kareem s.a.w.w k farman per amal kiya aur ziyada tar logon ney un k hukum ki mukhalifat ki jaisa k darj zeel hai :-
Matam sey mutalliq Rasool e Khuda S.a.w.w. k ahkama’t :-
1 , Murdon per aurton ka jama ho kar wawaila karna jahiliyat ka amal hai .
2 , Rasool e Khuda s.a.w.w ney aurton sey baiyat laitay waqt un sey ye baiyat li k maiyat per ben nahi karain gi aurton ney kaha A Rasool e Khuda s.a.w.w dour e jahiliyat mein kuchh aurton ney maiyat per ben karney mein hamari madad ki thi kiya hum un ki madad kar saktay hain ? Rasool e khuda sa..w.w ney farmaya Islam mein ye amal shaista nahi hai .
Page 401 Book Aqal By Mohammadi Ray Shehri .
3 , Bey shak Rasool e khuda s.a.w.w. ney Fatima s.a sey farmaya :- Jab mein intiqal kar jauon tou tum meray gham mein apney chehray per kharash na dalna aur na balon ko kholna aur na hi wel keh kar nida daina aur na mujh per roney wali ( aurton ) ko qaim karna .
Mani Ul Akhbar jild 2 page 439 By Shaikh Sadooq .
4 , Aap sa.w..w ney musibat k waqt cheekhney chillaney ko manah farmaya aur marney walay k liye noha o ben karney aur issay kaan laga kar sunney sey manah farmaya .
Page 2 jild 4 Man La Ya Hazral Faqih By Shaikh Sadooq .
5 , 2 awazain aisi hain jinhain Khuda wand e Tala sakht na pasand farmata hai Musibat k waqt cheekh o pukar karna aur Naimat k waqt Gana bajana .
Page 71 jild 2 Meezan ul Hikmat .
Hazrat Ali a.s ney jang e Sifeen k maqtoolon per matam karney waliyon ki awazain sun kar farmaya :-
Mein sun raha hu goya tum per tumhari aurtain ghalib a chuki hain ? tum inhain iss dharney sey kiyon nahi roktay ?
Page 71 jild  Meezan Ul Hikmat .
 , Imam Mohammad Baqar a.s ney Musibat k waqt sabar k silsilay mein farmaya :- Sakht tareen bey sabri wawaila o cheekh o pukar karney mooh per tamachay marney , seena kootney aur balon ko nochney ko kehtay hain jiss ney ben karney waliyon ko muqarar kiya uss ney sabar ka daman chhor diya aur doosray tareeqay per chal nikla .
Page 70 jild 2 Meezan ul Hikmat by Mohammadi Ray shehri
Nabi aur Imam o a.s k itney sakhti sey manah karney k bawajood bhi logon ney apney aziz ki judai per  khud bhi zamana e jahiliyat ki tarz ka matam kiya aur logon sey bhi karwaya iss silsilay mein sub sey pehlay aurton ko Hazrat Aisha ney apney shohor aur Rasool e khuda s.a.w.w ki wafat per roney k liye bulaya jiss per Umer ney un aurton ko un k hujray sey muntashar kiya uss k baad ba mutabiq Tareekh Ib Kaseer page 448 jild 7 ,  hazrat Usman ki shahadat per Mavia Bin Abu Sufiyan ney logon k darmiyan un ki khoon alood kameez aur un ki Zoja Naila ki kati hui ungliya rakh kar logon ko hazrat Ali a.s k khilaf uksaya aur un ki mazloomiyat per roshni dali jiss per log apney mazloom imam per zar o qatar rotay aur un ki shahadat ka badla laina ka ahed laitay rahay . Mavia k hazrat usman ki mazloomiyat per roshni dal kar logon ko rulana aik siyasi chal thi jiss per amal kar k woh sham mein apni hakoomat mustehkam karna chah raha tha ab isi tarz ka matam aaj hamaray dour mein kuchh aisay log kar rahay hain jo dawa tou kartay hain Mohammad O All e Mohammad a.s ki pairwi ka magar un k iss andaz sey sog manana aik bohot bara sawaliya nishan hai khud un per .

SAYED HASNI

ایک مشہور روایت کا رد : 

اکثر ذاکرین و خطباء حضرات ایک روایت پیش کرتے ہیں کہ امام حسین ع نے مدینہ میں اپنی بیٹی کو چھوڑ کر گئے اور تائید میں مندرجہ ذیل روایت پیش کرتے ہیں :

" جب امام حسین ع کی شہادت ہو چکی تو ایک کوا آیا اور اس نے اپنے پر و بال امام حسین ع کے خون میں رنگین کیا اور اڑتا ہوا مدینہ میں فاطمہ دختر امام حسین ع کی دیوار پر جا بیٹھا ، جناب فاطمہ ع نے جب اس کی طرف دیکھا تو بہت روئیں ۔۔۔۔"
مگر یہ روایت قابل قبول نہیں ہے کیونکہ 

اول : یہ روایت فی نفسہ ضعیف ہے ۔ علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں اسے کسی نامعلوم المولف کتاب قدیم سے نقل کیا ہے 

دوم : یہ روایت ان اخبار معتبرہ کے مخالف و معارض ہے جو جناب فاطمہ بنت حسین ع کے واقعہ کربلا میں موجود ہونے پر دلالت کرتی ہیں ۔

نیز علامہ مجلسی نے خود اپنی کتاب جلاء العیون میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد ضعیف اور ناقابل اعتبار کہا ہے ۔ علامہ مجلسی رہ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ 

" یہ روایت دیگر اخبار (جس میں فاطمہ بنت الحسین ع کا ساتھ کربلا میں موجود ہونا ذکر ہے ) کی مخالفت کی وجہ سے ساقط الاعتبار اور غرابت سے خالی نہیں ہے ۔"

جلاء العیون // علامہ مجلسی // ص 692 // باب : پنجم // طبع جدید ایران


ان حقایق کی روشنی میں یہ حقیقت بالکل آشکار ہوجاتی ہے کہ جناب فاطمہ بنت الحسین ع کا مدینہ میں رہنے کی روایت بالکل بے اصل اور بے بنیاد ہے۔

تحقیق: سید حسنی

ISMAIL DEOBANDI ABOUT NASBII

برادر اسمعیل دیوبندی کی تحقیق سنی مصادر سے---<<<

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قیام امام حسین علیہ السلام اور صحابہ کرام کا نظریہ۔
...........................................................................................
علامہ شمس الدین ذھبی نے ابن سعد سے ایک روایت کو نقل کیا ھے ۔ مشہور شاعر فرزدق اس روایت کے راوی ہیں فرزدق کہتا ھیکہ جب امام حسین [ع] کوفہ کیطرف نکل پڑے تو میں عبد اللہ بن عمر سے ملا اور ان سے کہا کہ حسین نے خروج کرلیا ھے آپ کی کیا رائے ھے ؟ عبد اللہ بن عمر نے کہا کہ میری رائے تو یہ ھیکہ تم بھی حسین [ع] کیساتھ نکل پڑو ، کیونکہ تم اگر دنیا کے طالب ہو تو تم اس کو پالوگے، اور اگر آخرت کے طالب ہو تب بھی اس کو پالوگے، فرزدق کہتا ھیکہ میں حسین [ع] کیطرف چل پڑا لیکن راستہ میں مجھے پتہ چلا کہ حسین [ع] قتل کردیئے گئے ہیں تو میں واپس عبد اللہ بن عمر کیطرف پلٹا اور ان سے آکر کہا کہ کہاں ھے جو تم نے مجھ سے کہا تھا ؟؟ [ یعنی مجھے نہ تو دنیا ملی اور نہ ہی آخرت ] تو عبد اللہ بن عمر نے کہا کہ وہ صرف میری ایک رائے تھی ۔علامہ ذھبی کا روایت سے استدلال :اس روایت کو نقل کرنے کے بعد علامہ ذھبی رقمطراز ہیں ۔قلت : ھذا یدل علی تصویب عبد اللہ بن عمرو للحسین في مسيره و هو رأي ابن الزبير و جماعة من الصحابة شهدوا الحرة ۔علامہ ذھبی فرماتے ہیں : یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ھے کہ عبد اللہ بن عمر امام حسین [ع] کے خروج کو صحیح سمجھتے تھے اور یہی عبد اللہ بن زبیر کی بھی رائے تھی اور اسیطرح صحابہ کرام کا وہ گروہ جو واقعہ حرہ کیوقت موجود تھا وہ بھی امام حسین علیہ السلام کے خروج کو صحیح سمجھتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیر أعلام النبلاء //جلد3 //صفحہ293 // مؤسسة الرسالة ۔



پسر سعد نے حکومت ملک رئے کی لالچ میں خون خدا سے اپنے ہاتھوں کو رنگین کرڈالا

امام اھلسنت حافظ ابن عبد البر فرماتے ہیں کہ عمر ابن سعد کیطرف قتل حسین کو منسوب کیاجاتا ھے ، کیونکہ عمر ابن سعد اس لشکر کا سپہ سالار تھا جس کو ابن زیاد نے امام حسین علیہ السلام سے جنگ کرنے کرنے کے لیئے روانہ کیا تھا، اور عمر ابن سعد سے ابن زیاد نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ امام کے مقابلہ میں کامیاب ہوگیا اور ان کو قتل کردیا تو اس کو ملک رئے کا حاکم بنا دے گا ۔ چنانچہ ابن عبد البر رقمطراز ہیں ۔
وقال أبو عمر: إنما نسب قتل الحسين إلى عمر بن سعد لأنه كان الأمير على الخيل التي أخرجها عبيد الله بن زياد إلى قتال الحسين، [وأمر عليهم عمر ابن سعد ووعده أن يوليه الري إن ظفر بالحسين وقتله ۔
الأستیعاب فی معرفة الأصحاب//جلد1//صفحہ394//۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


شہادت حسین [ع] پر آسمان کا سرخ ہوجانا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حافظ ابو نعیم اور ابن سعد نے ابن سیرین سے صحیح سند کیساتھ روایت کری ھے ۔ حدثنا عفان بن مسلم. قال: حدثنا حماد بن زيد. عن هشام بن حسان. عن محمد بن سيرين. قال: لم تر هذه الحمرة في آفاق السماء حتى قتل الحسين بن علي رحمه الله ۔
قال المحقق الشیخ محمد بن صامل السلمی : إسناده صحيح.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ : ابن سیرین فرماتے ہیں کہ آسمان میں یہ سرخی نہی دیکھی گئی یہاں تک کہ حسین ابن علی [ع] کو شہید کردیا گیا ۔ طبقات الکبری کے محقق شیخ محمد بن صامل سلمی نے روایت کی سند کو صحیح کہا ھے اور اس کے رجال بخاری اور مسلم کے ہیں ۔


الطبقات الکبری // الجزء المتمم للصحابة // في ترجمة حسين بن علي// ۔
معرفة الصحابة لأبي نعيم// المجلد الثاني// الصفحة رقم667// ۔-____________________________________________________________________________




کیا مولا علی [ع] کا یہ قول صحیح ہے کہ جو شخص مجھے شیخین پر فضیلت دے گامیں ایسے شخص کو کوڑوں کی سخت سزا دوں گا

اس متن میں دو قسم کی روایات منابع اھلسنت میں پائی جاتی ہیں جنمیں امام علی علیہ السلام کے فرمان کا مفہوم کچھ یوں ملتا ھے ۔

1 ۔ جو شخص مجھے حضرات شیخین [ ابو بکر و عمر ] پر فضیلت دے گا تو میں اس شخص پر تہمت کی حد جاری کرتے ہوئے کوڑے لگاؤں گا ۔
2 ۔ اور بعض روایات میں یہ ھیکہ جو شخص مجھے شیخین پر فضیلت دے گامیں ایسے شخص کو کوڑوں کی سخت سزا دوں گا ۔


ان روایات کو عبد اللہ بن احمد بن حنبل ، ابن ابی عاصم ، ابن شاھین اور حافظ ابن عساکر نے اپنے طرق سے نقل کیا ھے، لیکن ان تمام طرق اور اسناد میں سے کوئی طریق و سند صحیح نہی ھے ، چنانچہ ھم ان روایات کی اسناد پر کلام کررہے ہیں تاکہ روایت کا ضعف ثابت ہوسکے ۔

پہلی روایت : علقمة :
بلغني أن ناسا يفضلوني على أبي بكر وعمر ولو كنت تقدمت في ذلك لعاقبت فيه ولكني أكره العقوبة قبل التقدم، فمن قال شيئا من ذلك بعد مقامي هذا فهو مفتر، عليه ما على المفتري ۔

روایت کی اسنادی حیثیت : یہ روایت علقمہ سے مروی ھے ۔ اس روایت کو ابن ابی عاصم نے اپنی کتاب السنة میں اس سند کے ساتھ نقل کیا ھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حدثنا أبو علی الحسن بن البزار حدثنا الھیثم بن الخارجة ثنا شھاب بن خراش عن حجاج بن دینار عن أبی معشر عن ابراھیم عن علقمة :
شیخ البانی نے اس روایت کی تحسین ان الفاظ میں کری ھے ۔

إسناده حسن ورجاله ثقات على خلاف شهاب بن خراش من قبل حفظه وقد رمز الذهبي لحديثه بالصحة وقال: صدوق مشهور له ما يستنكر. وقال الحافظ: صدوق يخطىء ۔
السنة ومعه ظلال الجنه في تخريج السنة// رقم الحديث 993//۔

شیخ البانی کہتے ہیں کہ اسکی اسناد حسن ھے، اور اس کے راوی ثقہ ہیں جبکہ اسناد اس وجہ سے حسن ھے کہ اسکی سند میں راوی ھے ۔
شھاب بن خراش ، اس راوی کے حافظہ کی بابت کچھ اختلاف پایاجاتا ھے ۔
جبکہ علامہ ذھبی نے شھاب بن خراش کی روایات کی تصحیح کری ھے اور ان کو صدوق کہا ھے، اسیطرح حافظ ابن حجر نے بھی شھاب بن خراش کو صدوق کہا ھے لہذا اس کی سند حسن درجہ کی ٹھہری ۔ انتھی

شیخ البانی کا تسامح : لیکن ھماری نظر میں شیخ البانی کی تحسین محل نظر ھے ، اسکی اسناد حسن نہی ھے، شیخ البانی نے شھاب بن خراش پر جو کلام کیا ھے وہ بالکل صحیح ھے، مگر شیخ اس سند کے ایک اور راوی أبي معشر کو بھول گئے جن کا مکمل نام ھے، نجيح بن عبد الرحمن أبو معشر المدنی ، یہ ضعیف راوی ہیں، یحیی ابن معین اور حافظ ابن عدی نے انکی تضعیف کری ھے، یحیی بن معین کہتے ہیں : لیس بالقوی :
حافظ ابن عدی کہتے ہیں : يكتب حديثه مع ضعفه : کہ انکی روایات کو انکے ضعف کے باوجود اعتبار میں لکھا جائے گا، امام احمد فرماتے ہیں کہ یہ صدوق ہیں لیکن ان سے اسناد مضبوط نہی ہوگی، چنانچہ علامہ ذھبی نے انکی تضعیف کو ائمہ فن سے ان الفاظ میں نقل کیا ھے ۔
نجيح بن عبد الرحمن أبو معشر السندي مولى بني هاشم عن المقبري والقرظي ونافع وعنه بن مهدي وسعيد بن منصور قال أحمد صدوق لا يقيم الاسناد وقال بن معين ليس بالقوي وقال بن عدي يكتب حديثه مع ضعفه ۔
الکاشف // جلد 2// صفحہ 317// در ترجمہ نجیح //۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر اس روایت کو عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے بھی اسی سند کیساتھ روایت کیا ھے، روایت کی سند پر کلام کرتے ہوئے کتاب کے محقق وصی اللہ بن محمد لکھتے ہیں ۔
اسناده ضعيف لأجل أبي معشر و ھو نجیح المدني ۔
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل// تحت حدیث رقم 484 // ۔
لہذا أبي معشر کے ضعف کیوجہ سے اسناد کا ضعف ثابت ہوگیا جس کی بناء پر شیخ البانی کی تحسین کا اعتبار نہی کیا جاسکتا ۔

دوسری روایت : حکم بن جھل ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حدثنا عبد اللہ قال حدثني هدية بن عبد الوهاب قثنا أحمد بن يونس قثنا محمد بن طلحة عن أبي عبيدة بن الحكم عن الحكم بن جهل قال سمعت عليا يقول لا يفضلني أحد علي أبي بكر و عمر الا جلدته حد المفتري ۔
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل// رقم الحدیث 49، 387 //۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روایت کی اسنادی حیثیت :
اس روایت کو متن کے قدرے اختلاف کے ساتھ عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے متعدد طرق سے روایت کیا ھے، لیکن اس متن کی تمام اسناد ضعیف ہیں کیونکہ اس روایت کے تمام طرق محمد بن طلحہ سے ہی مروی ہیں جو اس روایت کو ابو عبیدہ سے نقل کررہے ہیں ۔
محمد بن طلحہ مجروح اور ضعیف ہیں ، امام نسائی کہتے ہیں : لیس بالقوی یحیی بن معین کہتے ہیں : محمد بن طلحہ ضعیف ہیں اور ان سے اخذ روایات میں اجتناب کیاجاتا ھے ، چنانچہ علامہ ذھبی نقل کرتے ہیں ۔
محمد بن طلحة بن مصرف :
عن أبيه وطائفة وعنه بن مهدي وسليمان بن حرب وابن الجعد قال النسائي ليس بالقوي وقال بن معين يتقى حديثه وقال مرة ضعيف ۔
الکاشف // جلد 2// صفحہ 183// در ترجمہ محمد بن طلحہ//۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسیطرح دوسرے راوی أبي عبيدة مجھول ہیں ان کا نام امیة بن الحکم ھے اور کنیت ابو عبیدہ ھے، ان کے مجھول ہونے کی بناء پر ہی علامہ ذھبی نے ان کو ضعیف راویوں میں شمار کیا ھے، ملاحظہ ہو ،
امية بن الحكم عن الحكم بن جحل وعنه ابنه مهجع لا يعرف ۔
المغنی فی الضعفاء// جلد 1// صفحہ 94//۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب فضائل الصحابہ کے محقق روایت کی اسنادی حیثیت پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں : اسنادہ ضعیف لضعف أبي عبيدة بن الحكم بن الحكم بن جهل ۔
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل// رقم الحدیث 49، 387 //۔


تیسری روایت : عبد اللہ بن کثیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قال علي بن أبي طالب أفضل هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر وعمر ولو شئت أن أسمي لكم الثالث لسميته وقال لا يفضلني أحد على أبي بكر وعمر إلا جلدته جلدا وجيعا ۔
اس روایت کو ابن عساکر نے عباس بن عبد المطلب کے ترجمہ کے ذیل میں اس سند کے ساتھ روایت کیا ھے ۔
أخبرنا أبو العز بن كادش أنا القاضي أبو الطيب الطبري أنا علي بن عمر بن محمد نا محمد بن محمد بن سليمان نا محمد بن عزيز الأيلي أخبرني سلامة بن روح عن عقيل بن خالد قال قال ابن شهاب قال عبد الله بن كثير ۔
تاریخ دمشق لأبن عساکر// جلد26// صفحہ 343//۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس روایت کی سند سخت ضعیف ھے ۔ اسکی سند میں سلامة بن روح مجروح ہیں ان کو حافظ ابو زرعہ نے منکر الحدیث کہا ھے ، ملاحظہ ہو ،
سلامة بن روح الايلي : عن عمه عقيل وعنه أحمد بن صالح ويونس بن عبد الاعلى قال أبو زرعة منكر الحديث
الكاشف // جلد1// صفحہ 475//۔

اور پھر ایک آفت اس سند میں ابن عساکر کے شیخ ابو العز کادش ہیں ۔ جو کہ متھم بالکذب اور متھم بالوضع ہیں اور یہ اعلی درجہ کی جرح ھے ۔ یہ روایت ابن عساکر نے اپنے شیخ احمد بن عبید اللہ ابو العز بن کادش سے نقل کری ھے، ابو العز کادش کے ترجمہ میں حافظ ابن حجر رقمطراز ہیں ۔

أحمد بن عُبَيد الله أبو العز بن كادش. مشهور من شيوخ ابن عساكر أقر بوضع حديث وتاب وأناب ۔ ۔ ۔ ۔ قال: وكان مخلطا كذابا لاَ يُحْتَجُّ بمثله وللأئمة فيه مقال.
وقال أبو سعد بن السمعاني: كان ابن ناصر يسيء القول فيه ۔ ۔ ۔ ۔ قال ابن عساكر: قال لي أبو العز بن كادش وسمع رجلا قد وضع في حق علي حديثا ووضعت أنا في حق أبي بكر حديثا بالله أليس فعلت جيدا؟ ۔
حافظ فرماتے ہیں : کہ ابو العز کادش نے روایات گھڑنے کا خود اقرار کیا تھا اور پھر توبہ کرلی تھی ۔ ابن النجار نے کہتے ہیں کہ ابو العز کادش کذاب تھا اور دیگر ائمہ بھی اس پر جرح کرتے تھے ۔ ابو سعد بن سمعانی کہتے ہیں کہ ابن ناصر ان پر سخت تنقید کرتے تھے ۔ ابن عساکر نے کہا کہ ابو العز کادش نے سنا کہ ایک شخص نے حضرت علی کی فضیلت میں روایت گھڑی تو جواب میں انہوں نے بھی حضرت ابو بکر کی شان میں ایک حدیث گھڑ ڈالی اور پھر فخر کرتے ہوئے کہا کہ کیا میں نے اچھا نہی کیا ؟ ۔
لسان المیزان // در ترجمہ أحمد بن عُبَيد الله أبو العز بن كادش// ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خلاصہ کلام :
جو شخص مجھے شیخین پر فضیلت دے گا میں اس پر تہمت کی حد جاری کروں گا، یا کوڑوں کی سزا دوں گا ، ایسا کوئی کلام امام علی ع سے ثابت نہی ھے، اس ضمن میں جو روایات مروی ہیں وہ سب کی سب ضعیف اور موضوع روایات ہیں جن پر اعتبار نہی کیا جاسکتا ۔ انتھی ۔________________________________________________________________________________




شبث ابن ربعی
حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں ۔
شبث ابن ربعی ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے حضرت عثمان کے خلاف صف آرائی کری تھی، پھر حضرت علی کیساتھ ہوگیا، اور پھر خوارج سے جاملا ، اس کے بعد توبہ کرلی، لیکن پھر امام حسین [ع] کے قتل میں شریک ہوا ، اور پھر اس کے بعد مختار کے ساتھ خون حسین کا انتقام لینے والوں میں شامل ہوگیا، اور پھر مختار کے قتل میں بھی شریک ہوا ۔
چنانچہ حافظ رقمطراز ہیں ۔
شبث ۔ ۔ ۔ ۔ كان مؤذن سجاح ثم أسلم ثم كان ممن أعان على عثمان ثم صحب عليا ثم صار من الخوارج عليه ثم تاب فحضر قتل الحسين ثم كان ممن طلب بدم الحسين مع المختار ثم ولي شرط الكوفة ثم حضر قتل المختار ۔
تقریب التھذیب // در ترجمہ شبث ابن ربعی // ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑے افسوس کا مقام ھے کہ امام ابو داؤد السجستانی نے اپنی سنن میں شبث ابن ربعی سے بھی روایت کری ھے، ملاحظہ ہو رقم الحدیث 5064 ۔

__________________________________________________________________________________حضرت





عمر کی تاریخ وفات
حضرت عمر کی تاریخ وفات کے باب میں دو قول مشہور ملتے ہیں۔
1 ۔ ایک قول یہ ھیکہ حضرت عمر زخمی ہونے کے بعد تین دن زندہ رہے اور پھر چھبیس 26 ذی الحجہ کو ان کا وصال ہوا ، چنانچہ علامہ قلقشندی ، اور حافظ ابن النجار البغدادی نے اسی قول کو اختیار کیا ھے ۔
علامہ قلقشندی لکھتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وطعنه أبو لؤلؤة الفارسي غلام المغيرة بن شعبة فبقي ثلاثاً ومات لأربع بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين من الهجرة
نهاية الأرب في معرفة أنساب العرب// جلد1 // صفحہ152// ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی قول کو حافظ ابن النجار البغدادی نے بھی اختیار کیا ھے،
وكانت وفاته رضي الله عنه يوم الأربعاء لأربع بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين من الهجرة ۔
الدرة الثمينة في أخبار المدينة // ذکر وفات عمر // ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلقشندی اور ابن النجار کے اس قول کی تایئید اس روایت سے بھی ہوتی ھے جس کو حافظ ابن شبہ نے اپنی تاریخ میں اور امام بیہقی نے سنن میں نقل کیا ھے، یہ روایت معدان ابن ابی طلحہ سے مروی ھے، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے جمعہ کو خطبہ دیا اور جب ذی الحج کے چار دن باقی تھے، یعنی چھبیس ذی الحج کے دن حضرت عمر کا انتقال ہوا ملاحظہ ہو :
قال خطب لھم یوم الجمعة و مات یوم الأربعاء لأربع بقین من ذی الحجة ۔
السنن الکبری للبیھقی // رقم الحدیث 16578 //۔
تاریخ المدینة لأبن شبة // باب مقتل عمر // ۔

2 ۔ دوسرا قول جو کہ مشہور ھے، اور اسی قول کو جمھور مؤرخین اور علماء نے اپنی کتب میں بیان کیا ھے کہ ابو لؤلؤ نے چھبیس 26 ذی الحج کو ضرب لگائی تھی، جس سے حضرت عمر تین دن تک زخمی رہے اور پھر ان کا وصال ہوا اور حضرت صھیب رومی نے ان کا نماز جنازہ پڑھایا، چنانچہ مؤرخ ابن اثیر نے اسی قول کو ابن قتیبہ سے نقل کیا ھے، ملاحظہ ہو ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
و قال ابن قتیبة : ضربه أبو لؤلؤة يوم الأثنين لأربع بقين من ذي الحجة، ومكث ثلاثًا، وتوفي، فصلى عَلَيْهِ صهيب ۔
أسد الغابة في معرفة الصحابة// جلد3// صفحہ676 //۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشہور سلفی محقق شیخ شعیب الأرنؤوط نے بھی مسند احمد کی تحقیق میں اسی قول کو اختیار کیا ھے، شیخ ارنؤوط رقمطراز ہیں ۔
وكانت خلافته رضي الله عنه عشر سنين وستة أشهر، ضربه أبو لؤلؤة المجوسي لأربع بقين من ذي الحجة، ومكث ثلاثاً وتوفي، فصَلَّى عليه صهيبٌ
المسند للأحمد // تحت رقم الحدیث 82 // مسند عمر //۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کلام تھا حضرت عمر کی تاریخ وفات کے باب میں، جہاں تک تدفین کی بات ھے تو بعضے علماء نے بیان کیا ھے، کہ حضرت عمر کو محرم کے پہلے دن دفن کیا گیا، تدفین کے اس قول کو ملا علی قاری نے شرح مشکاة میں اور حافظ ابن اثیر الجزری نے جامع الاصول میں اختیار کیا ھے، ملاحظہ ہو ،
وطعنه أبو لؤلؤة غلام المغيرة بن شعبة مصدر الحاج بالمدينة يوم الأربعاء لأربع بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين، ودفن يوم الأحد غرة المحرم سنة أربع وعشرين ۔
جامع الاصول //جلد 12// صفحہ127// عمر بن الخطاب //۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خلاصہ کلام : حضرت عمر کی تاریخ وفات سے متعلق جتنے بھی اقوال ہیں ان اقوال میں اختلاف اس حد تک ھے کہ ابو لؤلؤ نے ضرب کس دن لگائی ؟
جمھور کے نزدیک چھبیس ذی الحج ھے، بعض کے نزدیک چھبیس سے پہلے ضرب لگائی ، اور بعض کے نزدیک ستائیس ذی الحج کو ضرب لگائی ۔
لیکن ابو لؤلؤ کی ضرب اور حضرت عمر کی تدفین، ان دونوں باتوں سے قطع نظر ، کم از کم اس بات پر تو تمام مؤرخین و علماء کا اجماع ھے کہ حضرت عمر کا وصال ذی الحج کے مہینہ میں ہی ہوا ھے ، اس میں کوئی دو رائے نہی ہیں ۔ ۔ ۔ و اللہ اعلم بالصواب ۔
_________________________________________________________________________________
برادران اھلسنت کیلیئے لمحہ فکریہ!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارا صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کے بارے میں یہ عقیدہ ھے (الصحابۃ کلھم عدول)
کہ تمام صحابہ عادل ہیں!! اور نظریہ عدالت صحابہ کا یہ تقاضہ ھیکہ ھم انکے درمیان واقع ہونے والے مشاجرات پر سکوت اختیار کریں اور لب کشائی سے پرھیز کریں وگرنہ صحابہ کی عدالت مجروح ہوگی جسکی عقیدہ اھلسنت میں قطعی گنجائش نہی ہے !!

لیکن افسوس ہوتا ھے کہ ہم خود اپنے عقیدہ عدالت کا خیال بھی نہی کرتے اور حضرت سلیمان بن الصرد الخزاعی رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی رسول کو جانے انجانے میں اپنی طعن وتنقید کا نہ صرف نشانہ بناتے ہیں بلکہ انکو کوفی لا یوفی کا مصداق قرار دیتے ہوئے ہر جگہ یہی چرچہ کرتے نظر آتے ہیں کہ شیعوں نے وفا نہی کری اور امام حسین [ع] کو پہلے خود بلایا اور پھر خود ہی ان کو شہید کروادیا ۔


صحابی رسول حضرت سلیمان بن صرد الخزاعی رضی اللہ تعالی عنہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔
کتب تاریخ، کتب تراجم صحابہ، اور فن اسماءالرجال کی مستند کتب میں جزئی تصریحات موجود ھیں کہ امام حسین علیہ السلام کوخط لکھنے والوں میں سرفھرست صحابی رسول حضرت سلیمان بن الصرد الخزاعی ہیں، سلیمان بن صرد کے گھرمیں ھی کبار شیعہ کا اجلاس ہوتا تھا اور امام علیہ السلام کی شہادت کے بعد بھی شیعان علی کے امیر یہی تھے جنہوں نے جماعت توابین کی تحریک قصاص کی قیادت کے فرائض انجام دیئے،اور جام شہادت نوش فرمایا، چنانچہ ھم اختصار کے پیش نظر صرف حافظ ابن کثیر الدمشقی کا کلام نقل کیئے دیتے ہیں ، جو کہ جامع اور مختصر کلام ھے،حافظ ابن کثیر رقمطراز ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقد كان سليمان بن صرد الخزرجي صَحَابِيًّا جَلِيلًا نَبِيلًا عَابِدًا زَاهِدًا، رَوَى عَنِ النَّبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثُ فِي الصَّحيحين وَغَيْرِهِمَا، وَشَهِدَ مَعَ عَلِيٍّ صِفِّينَ، وَكَانَ أَحَدُ مَنْ كَانَ يَجْتَمِعُ الشِّيعَةُ فِي دَارِهِ لِبَيْعَةِ الْحُسَيْنِ، وَكَتَبَ إِلَى الْحُسَيْنِ فِيمَنْ كَتَبَ بِالْقُدُومِ إِلَى الْعِرَاقِ، فَلَمَّا قَدِمَهَا تَخَلَّوْا عَنْهُ وقتل بكربلاء بعد ذلك، وَرَأَى هَؤُلَاءِ أَنَّهُمْ كَانُوا سَبَبًا فِي قُدُومِهِ، وَأَنَّهُمْ خَذَلُوهُ حَتَّى قُتِلَ هُوَ وَأَهْلُ بَيْتِهِ، فندموا، على ما فعلوا معه، ثُمَّ اجْتَمَعُوا فِي هَذَا الْجَيْشِ وَسَمَّوْا جَيْشَهُمْ جيش التوابين، وسموا أميرهم سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ أَمِيرَ التَّوَّابِينَ، فَقُتِلَ سُلَيْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْوَقْعَةِ بِعَيْنِ وَرْدَةَ سَنَةَ خَمْسٍ وَسِتِّينَ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ : فرماتے ہیں : کہ سلیمان بن صرد بڑی شان و شرف والے ، عبادت گذار اور پرھیز گار صحابی رسول تھے صحیح بخاری اور صحیح مسلم وغیرہ میں سلیمان بن صرد سے رسول اللہ [ص] کی احادیث بھی مروی ہیں، سلیمان جنگ صفین میں حضرت علی کے ساتھ تھے، اور یہ ان سرداران شیعہ میں سے ایک تھے کہ جنکے گھر میں امام حسین [ع] کی بیعت کے حوالہ سے شیعوں کا اجلاس ہوتا تھا، اور سلیمان بن صرد کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ھے جنہوں نے امام حسین [ع] کو کوفہ بلانے کی خاطر خطوط لکھے تھے، اور جب امام حسین کوفہ آگئے تو انہوں نے امام [ع] کو چھوڑ دیا، جس کے بعد امام حسین [ع] کربلا میں شھید کردیئے گئے، امام حسین [ع]کی شہادت کے بعد اس گروہ کا یہ خیال تھا کہ امام حسین [ع] کی کوفہ تشریف آوری کا سبب یہی لوگ تھے اور انہی لوگوں نے امام حسین [ع] کو مصیبت میں تنہا چھوڑا جسکی وجہ سے امام حسین [ع] اور ان کے اھلبیت شہید کردیئے گئے، پس یہ گروہ اس پر نادم ہوا جو انہوں نے امام حسین [ع] کے ساتھ کیا، پھر یہ لوگ ایک لشکر کی صورت میں جمع ہوئے انہوں نے اپنے لشکر کا نام توابین رکھا اور سلیمان بن صرد کو امیر التوابین کا نام دیا چنانچہ سلیمان اس جنگ میں شہید ہوگئے، جو کہ عین الوردہ کے مقام پر سن 65 ھجری میں ہوئی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
البدایة و النهاية // جلد 8 // صفحہ 280 // طبع احیاء التراث العربی، بیروت ۔

لمحہ فکریہ !!!
مؤرخین و علماء کا اس بات پر اتفاق ھے کہ جنہوں نے امام حسین [ع] کو سب سے پہلے کوفہ کی دعوت دینے کیلیئے خطوط لکھے تھے، سلیمان بن صرد الخزاعی رضی اللہ عنہ انکے امیر تھے، حضرت سلیمان بن صرد صرف امام حسین [ع] کے شیعہ ہی نہی ہیں بلکہ جلیل القدر صحابی رسول بھی ہیں، ان کا صحابی ہونا ایک مسلم امر ھے، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی عدالت کا دفاع اھلسنت کا اعتقادی فریضہ ھے، لیکن سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ھیکہ کیا ہم اپنے عقیدہ پر قائم ہیں یا نہی؟؟ کیا ھم شیعہ دشمنی میں نظریہ عدالت صحابہ کی دھجیاں نہی اڑارھے؟ یہ ھمارے لیئے لمحہ فکریہ ھے!!
برادر یہاں جو نظریہ عدالت صحابہ عمومی طور پر اھلسنت و الجماعت میں پایاجاتا ھے، وہ تمام صحابہ کی عدالت کا ہی ھے، یعنی الصحابة کلھم عدول
جبکہ در حقیقت ایسا نہی ھے، تمام صحابہ عادل ہیں، یہ ایک غیر منطقی سوچ ھے، جیساکہ بعض کبار علماء اھلسنت نظریہ عدالت صحابہ کی وضاحت کرچکے ہیں، ان کبار علماء کی توضیح کیمطابق تمام صحابہ عادل نہی ہیں، البتہ بعضے صحابہ کے علاوہ صحابہ کی اکثریت عادل ھے ۔
ان کبار علماء میں سے ھم حافظ ابن عبد البر اور علامہ شمس الدین ذھبی کا کلام نقل کیئے دیتے ہیں، جس کو حافظ ابن عماد حنبلی نے اپنی کتاب میں نقل کیا ھے، حافظ ابن عماد حنبلی لکھتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وذكر ابن عبد البر والذهبي وغيرهما مخازي مروان بأنه أول من شق عصا المسلمين بلا شبهة، وقتل النّعمان بن بشير أول مولود من الأنصار في الإسلام، وخرج على ابن الزّبير بعد أن بايعه على الطاعة، وقتل طلحة بن عبيد الله يوم الجمل، وإلى هؤلاء المذكورين، والوليد بن عقبة، والحكم بن أبي العاص، ونحوهم، الإشارة بما ورد في حديث المحشر وفيه: «فأقول:
يا ربّ أصحابي، فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك» ولا يرد على ذلك ما ذكره العلماء من الإجماع على عدالة الصحابة، وأن المراد به الغالب وعدم الاعتداد بالنادر، والذين ساءت أحوالهم ولابسوا الفتن بغير تأويل ولا شبهة ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابن عماد حنبلی فرماتے ہیں : کہ حافظ ابن عبد البر اور علامہ ذھبی نے مروان بن حکم کے مثالب کو ذکر کیا ھے، پہلا شخص جس نے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالا وہ بلا شبہ مروان ہی ھے، پہلے انصاری صحابی جو اسلام میں پیدا ہوئے ، نعمان بن بشیر ، ان کو بھی مروان نے ہی قتل کیا، اور مروان نے عبد اللہ بن زبیر کی بیعت کرنے کے بعد بغاوت کری، اور جنگ جمل میں طلحہ بن عبید اللہ کو بھی قتل کیا، اسیطرح مروان کے علاوہ ولید بن عقبہ، اور حکم بن مروان اور ان جیسے دیگر لوگ، اس سے اشارہ ھے ایسے لوگوں کیطرف کہ جن کے بارے میں رسول اللہ کی حدیث موجود ھے، کہ جب حوض کوثر سے بعضے صحابہ کو دھتکارا جائے گا تو میں کہوں گا کہ خدایا !! یہ تو میرے صحابہ ہیں !! تو ارشاد خداوندی ہوگا کہ اے محمد آپ نہی جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کرا ۔ حافظ ابن عماد حنبلی فرماتے ہیں کہ حدیث حوض نظریہ عدالت صحابہ کو رد نہی کرتی، کیونکہ نظریہ عدالت کا اطلاق بعض صحابہ کو چھوڑ کر اکثر صحابہ پر ہوتا ھے، اور جن صحابہ کاحدیث حوض میں ذکر ھے یہ وہ صحابہ ہیں کہ جن کے اعمال برے تھے، اور جو لوگ بغیر تاویل کے فتنوں میں پڑگئے ۔ [ لہذا معلوم ہوا کہ تمام صحابہ عادل نہی ہیں]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شذرات الذھب فی اخبار من ذھب // جلد 1 // صفحہ 279 /
دوسری بات : کہ سلیمان بن صرد الخزاعی نے امام حسین علیہ السلام کا ساتھ کیوں نہی دیا ؟؟ عرض یہ ھیکہ تاریخ کی روشنی میں اگر اس وقت کے زمینی حقائق کو پیش نطر رکھا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ھیکہ کوفہ کے شیعہ ابن زیاد کے خوف سے چھپ گئے تھے، گویا کہ وہ مجبور تھے، لیکن بہرحال امام علیہ السلام کا ساتھ نہ دینا اور انکی نصرت سے پیچھے ہٹ جانا اپنی جگہ کسی کبیرہ کے ارتکاب سے کم نہیں ھے ، لیکن امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد جسطرح انہوں نے قبر حسین پر گریہ و زاری کی، خدا کی بارگاہ میں گڑ گڑا کر توبہ کری، اپنے گناہ پر نادم ہوئے، اور اس گناہ کے ازالہ کی خاطر خون حسین [ع] کے انتقام میں اپنی جانوں تک کا نذرانہ پیش کردیا، تو توابین کا یہ عمل اور انجام اسی بات کا سزاوار ھے کہ ھم پروردگار سے ان کے حق میں دعاء مغفرت کریں، وہ بڑا تواب اور غفار ھے، بے شک اس کا وعدہ برحق ھے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ توبہ کرے اور پھر عمل صالح کرے تو خدا اسکی سیئات کو نیکیوں میں بدل دے گا اور خدا سے مغفرت و رحمت کی امید سلیمان بن صرد اور ان کے ساتھیوں کے حق میں بدرجہ اولی لگائی جاسکتی ھے، کیونکہ اللہ تعالی نے تو ایسے غنی لوگوں سے بھی درگذر کرلیا کہ جو لوگ رسول اللہ کو میدان جنگ میں چھوڑ کر بھاگ نکلے ۔______________________________________________________________________________




امام حسین (ع) کی شہادت پر جنوں اور دیگر افراد کا نوحہ وگریہ کرنا

ام المومنین ام سلمیٰٰ نے فرمایا: میں نے جنات کو امام حسین (ع) کی شہادت پر روتے سنا

ام سلمیٰٰ فرماتی ہیں کہ میں نے جنات کو امام حسین (ع) پر نوحہ کرتے سنا البدایہ والنھایہ//ابن کثیر//محقق:عبدالمحسن ترکی//ج:11//ص 575//طبع الاولیٰٰ 1418 ھ ،جز:21 الھجر بیروت فضائل صحابہ //احمد بن حنبل //تحقیق:ڈاکٹر وصی اللہ بن محمد عباس //ج : 2 // طبع الاولیٰٰ 1403ھ ،جز2،جامعہ ام القری مکہ سعودیہ//ص 776//حدیث:1373 محقق کتاب کہتا ہے کہ اس کی سند حسن کے درجے کی ہے۔ العجم الکبیر طبرانی ، ج 3 ،ص 130 ،ح:2862،2867 مجمع الزوائد میں ہیثمی نے جنات کے نوحے والی روایات نقل کی ہیں اور کہا ہے کہ اس کو طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں مجمع الزوائد، ج 9 ، ص 321، ح 15179،115180 ابن کثیر اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے کہ یہ بات صحیح ہے البدایہ والنھایہ//ابن کثیر//محقق:عبدالمحسن ترکی//ج:9//ص 240//طبع الاولیٰٰ 1418 ھ ،جز:21 الھجر بیروت //باب:اخبار مقتل حسین
تعلیق در تصحیح :
اس روایت کو امام طبرانی اور عبد اللہ بن احمد بن حنبل، کے علاوہ ،
ابن سعد نے بھی طبقات میں اپنے طریق سے روایت کیا ھے، جسکی اسناد حسن لذاتہ ھے، اس روایت کے تمام طرق حماد بن سلمہ سے مروی ہیں حماد اس روایت کو عمار بن ابی عمار مولی بنی ھاشم سے نقل کرتے ہیں۔
عمار بن ابی عمار صدوق راوی ہیں، انکی توثیق امام احمد بن حنبل، حافظ ابو زرعہ رازی، اور امام ابو داؤد السجستانی، جیسے کبار ائمہ فن نے کری ھے ۔ ملاحظہ ہو // العلل // الجرح و التعدیل // تھذیب التھذیب // ۔
حافظ ھیثمی نے کہا // اس کو طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں // ھیثمی کا یہ کہنا صحیح نہی ھے، یہ ان کا وھم ھے، کیونکہ عمار بن ابی عمار کا ترجمہ امام بخاری نے تاریخ الکبیر میں ضرور کیا ھے لیکن امام بخاری نے اپنی صحیح میں عمار بن ابی عمار سے کوئی روایت نقل نہی کری، لہذا عمار صحیح بخاری کے رجال میں سے نہی ہیں ۔
چنانچہ حافظ مزی نے اس کی تصریح ان الفاظ میں کری ھے ۔
روى له الجماعة سوى البخاري : کہ عمار بن ابی عمار سے محدثین کی ایک جماعت نے روایت کیا ھے سوائے امام بخاری کے ملاحظہ ہو ،
// تھذیب الکمال فی اسماء الرجال // ۔
________________________________________________________________________________مسئلہ




تفضیل اولاد صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہ ولی اللہ محدث دھلوی کی عقائد پر ایک تصنیف ھے، بنام، الاعتقاد الصحیح ، معروف اھلحدیث عالم ، نواب صدیق حسن خان قنوجی نے اس کتاب کی شرح لکھی، بنام ، الانتقاد الرجیح فی شرح الاعتقاد الصحیح ، شیخ صدیق حسن خان القنوجی ، تفضیل اولاد صحابہ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
و أما تفضيل أولاد الصحابة فقال بعضهم : لا نفضل بعد الصحابة أحد الا با العلم و التقوي ، و الأصح أن أفضل ابنائهم علي ترتيب فضل آبائھم الا أولاد فاطمة عليها السلام. فأنهم مفضلون علي أولاد أبي بكر و عمر و عثمان لقربهم من رسول الله صلي الله عليه و سلم. فهم العترة الطاهرة ، و الذریة الطيبة ، الذین أذھب اللہ عنھم الرجس و طھرھم تطھیرا ۔ کذا فی الکفایة و شرح الفقه الأکبر لعلی القاری ، و ھو الصواب عندی، و به أقول و الیه أذھب۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نواب صاحب فرماتے ہیں : جہاں تک صحابہ کرام کی اولاد کی فضیلت کا مسئلہ ھے،
بعض فرماتے ہیں کہ صحابہ کے بعد انکی اولاد میں باھم فضیلت کا معیار علم اور تقوی ھے،
اور صحیح ترین قول یہ ھیکہ تمام صحابہ کی اولاد کی باھمی فضیلت ان کے والدوں کی فضیلت کی ترتیب پر ھے ، سوائے سیدہ فاطمہ علیہا السلام کی اولاد کے ، کیونکہ اس میں کوئی شک نہی کہ سیدہ سلام اللہ علیہا کی اولاد ، حضرت ابو بکر ، عمر ، عثمان ، کی اولاد سے افضل ھے ، اسلیئے کہ سیدہ [س] کی اولاد کو رسول اللہ [ص] کی قربت کا شرف حاصل ھے، پس اولاد سیدہ [س] ہی رسول اللہ کی پاک عترت ہیں، اور یہی پاکیزہ خاندان ھے، کہ جن سے اللہ نے ہر رجس کو دور کیا، اور ان کو کما حقہ پاک کیا ۔
یہی کلام کفایہ ملا علی قاری کی کتاب شرح فقہ اکبر میں بھی بیان ہوا ھے،
اور یہی بات صحیح ھے میرے نزدیک، میں اسی بات کا قائل ہوں اور یہی میرا مذھب ھے ۔

الانتقاد الرجیح فی شرح الاعتقاد الصحیح//باب الکلام علی الصحابة//ص رقم 165 ۔___________________________________________________________________________





ﻓﺮﻣﺎﻥ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ
ﻭﺍﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ .
ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﮐﻮﺋﯽ ﻧﯿﮏ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ
ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ
ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ
ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﮐﻮ
ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﭼﮩﺎ
ﺍﺟﺮ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ
)ﺻﺤﯿﺢ ﻣﺴﻠﻢ ﺝ2 ﺹ341 )

اس روایت کو امام مسلم،امام احمد، ترمذی، ابن ماجہ، حافظ ابن حبان، حافظ ابن خزیمہ، امام دارمی، طحاوی، طبرانی، بیہقی اور دیگر محدثین نے اپنی کتب میں مرفوعا ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا ھے،
من سن سنة حسنة كان له أجرها ومثل أجر من عمل بها من غير أن ينقص من أجرهم شيء ومن سن سنة سيئة كان عليه وزرها ووزر من عمل بها من غير أن ينقص من أوزارهم شيئا ۔
لیکن یہ بات ذہن نشین رہنی چاھیئے کہ حدیث بالا کی حدود میں ان نیک طرق و اعمال کا اجراء شامل ھے کہ جن طرق و اعمال کا اجراء دین میں التزام کے ساتھ، یعنی دین کے نام پر نہ ہو ، وگرنہ وہ طرق و اعمال بدعت سے تعبیر کیئے جائیں گے، جو کہ بہر حال مذموم ھے ۔
چنانچہ صحیحین میں متفق علیہ مرفوع حدیث موجود ھے، رسول اللہ [ص] نے فرمایا : کہ جس نے اس دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کری تو وہ مردود ھے، روایت کا عربی متن ملاحظہ ہو ،
من أحدث فی أمرنا ھذا ما لیس منه فھو رد ۔ الحدیث ۔


فن درایت [ مصطلح الحدیث ] میں تواتر کے تحقق کی بابت تواتر کی بعض شرائط پر دو فریق میں معمولی اختلاف رائے پایاجاتا ھے ۔
1 فریق اول :
جمہور محدثین و ائمہ فن کے نزدیک یہ روایت خبر واحد ھے، اور خبر واحد کی انواع میں سے یہ روایت خبر مشہور کے قبیل سے تعلق رکھتی ھے، کیونکہ خبر مشہور کی تعریف اس روایت پر صادق آتی ھے، یہی وجہ ھیکہ علامہ عجلونی نے بھی اس روایت کو کشف الخفاء میں ذکر کیا ھے ۔
فریق ثانی :
یہ روایت صرف طبقہ اولی میں بعض ماہرین فن مصطلح کے نزدیک متواتر معنوی ضرور ھے کیونکہ اس کو صحابہ کی ایک جماعت نے روایت کیا ھے جنمیں حضرت جریر بن عبد اللہ البجلی ، حذیفۃ بن الیمان ، ابی جحیفہ ، واثلۃ بن الاسقع ، ابو ھریرہ ، اور سھل بن سعد وغیرھم سر فہرست ہیں ۔ لیکن ان بعض علماء کے اصول حدیث کیمطابق بھی اس روایت پر متواتر معنوی کا اطلاق نہی کیا جاسکتا، کیونکہ طبقہ ثانیہ اور ثالثہ یعنی
[ تابعین و تبع تابعین ] میں تواتر محقق نہی ھے لہذا یہ روایت فریق اول کے نزدیک بھی کسی بھی قسم کے تواتر کی حد تک نہی پہنچتی ۔
________________________________________________________________________________




قتل حسین [ع] سے رسول اللہ کو ایذاء پہنچی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ممتاز و مستند عالم اور شارح ترمذی حافظ عبد الرحمان مبارکپوری حدیث رسول فاطمة بضعة مني کی شرح میں رقمطراز ہیں ۔

فِيهِ تَحْرِيمُ أَذَى مَنْ يَتَأَذَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَأَذِّيهِ لِأَنَّ أَذَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم حرام حَرَامٌ اتِّفَاقًا قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ وَقَدْ جَزَمَ بِأَنَّهُ يُؤْذِيهِ مَا يُؤْذِي فَاطِمَةَ فَكُلُّ مَنْ وَقَعَ منه فِي حَقِّ فَاطِمَةَ شَيْءٌ فَتَأَذَّتْ بِهِ فَهُوَ يُؤْذِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَهَادَةِ هَذَا الْخَبَرِ الصَّحِيحِ وَلَا شَيْءَ أَعْظَمَ فِي إِدْخَالِ الْأَذَى عَلَيْهَا مِنْ قَتْلِ وَلَدِهَا ۔

حافظ مبارکپوری فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے پتہ چلتا ھے کہ جس ہستی کو ایذاء دینے سے رسول اللہ [ص] کو اذیت پہنچتی ہو تو ایسی ہستی کو بھی ایذاء دینا حرام ھے کیونکہ ایذاء کم ہو یا زیادہ بہر صورت متفقہ طور پر رسول [ص] کو ایذاء دینا حرام ھے اور یہ بات بھی بلا شک و شبہ ثابت ھے کہ جس چیز سے سیدہ فاطمہ [س] کو اذیت پہنچتی ھے تو انکی اذیت سے رسول [ص] کو بھی اذیت پہنچتی ھے چنانچہ ہر وہ شخص جس نے ذرہ برابر بھی سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو تکلیف دی تو لامحالہ اس شخص نے نبی کریم [ص] کو تکلیف دی جیساکہ صحیح حدیث : فاطمة بضعة مني : اس پر شاھد ھے اور سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو کسی چیز سے اتنی تکلیف نہی ہوسکتی جتنی تکلیف سیدہ طاہرہ کو امام حسین کے قتل سے پہنچی ھے جو کہ یقنی طور پر ایذاء رسول کا باعث ھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحفة الأحوذي شرح ترمذی//جلد10//صفحہ340//طبعہ قدیمی کتب خانہ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




ناصبی کی تعریف اور اس کا حکم

جلیل القدر عالم اور محدث السلفیة، علامہ شوکانی فرماتے ہیں۔وإذا ثبت أن الناصبي من يبغض عليا عليه السلام فقد ثبت بالأحاديث الصحيحة الصريحة في كتب الحديث المعتمدة أن بغضه نفاق وكفر ۔ ۔ ۔ وثبت أن من أبغض عليا فقد أبغض الله ورسوله وبغض الله ورسوله كفر ۔ ۔ ۔ وفي الباب أحاديث كثيرة من طرق عن جماعة من الصحابة.وفي هذا المقدار كفاية فإن به يثبت أن الناصبي كافر، وأن من قال لرجل يا ناصبي! فكأنه قال: له يا كافر ۔ترجمہ :اور جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ ناصبی وہ ہوتا ھے جو علی علیہ السلام سے بغض رکھتا ہو تو پھر صحیح اور صریح احادیث جو مستند کتب میں منقول ہوئی ہیں ان احادیث کی روشنی میں یہ بھی ثابت ہوچکا ھے کہ علی [ع] سے بغض رکھنا نفاق اور کفر ھے اور یہ بھی ثابت ھے کہ جس نے علی سے بغض رکھا گویا اس نے اللہ اور رسول سے بغض رکھا اور اللہ اور رسول سے بغض رکھنا کفر ھے اور اس باب میں کافی احادیث ہیں جو کہ متعدد طرق سے صحابہ کی ایک جماعت سے مروی ہوئی ہیں جنمیں سے ھم نے بقدر کفایت چند احادیث نقل کردی ہیں ان احادیث سے یہ ثابت ہوتا ھیکہ ناصبی کافر ھے ۔ ۔ ۔ اور اگر کسی شخص نے دوسرے آدمی کو ناصبی کہا تو یہ ایسا ہی ھے کہ گویا اس نے اس شخص کو کافر کہا ھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الفتح الربانی من فتاوی الامام الشوکانی//جلد2//صفحہ873 ۔ 876// ۔طبعہ مکتبۃ الجیل یمن ۔

SAYED HASNI


آیت اللہ العظمیٰ امام الخوئی رہ اور سعودیہ عرب کے سلفی عالم دین سے بحث

آیت اللہ العظمیٰ امام خوئی رہ فرماتے ہیں کہ سن 1353 ھجری میں زیارت بیت اللہ سے شرفیاب ہوا ، اس دوران میری ملاقات ایک فاضل عالم دین جناب شیخ زین العابدین سے ہوئی ، جو سجدہ گاہ پر نماز پڑھنے والوں کی نگرانی کرتا اور ان سے سجدہ گاہ چھین لیتا تھا ۔ میں نے اس سے کہا :

شیخنا! کیا رسول اللہ ع نے مسلمان کی اجازت کے بغیر ان کے مال میں تصرف کو حرام قرار نہیں دیا ؟ اس نے جواب دیا : کیوں نہیں ! میں نے کہا : تو پھر تم ان مسلمانوں سے ان کا مال کیوں چھنتے ہو جبکہ وہ اللہ کی واحدانیت اور اس کے رسول کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں ؟ اس نے کہا : یہ لوگ مشرک ہیں ، انہوں نے تربت (خاک کربلا) کو بُت بنا رکھا ہے اور اس کو سجدہ کرتے ہیں ۔ میں نے کہا : اگر اجازت ہو تو اس موضوع پر قدر ے تفصیلی بحث کی جائے ، اس نے جواب دیا : کوئی حرج نہیں

چنانچہ ہم دونوں میں بحث اور مناظرہ شروع ہوا اور آخرکار اس نے اپنے عمل کی معذرت طلب کی اور اپنے رب استغفار کرنے لگا اور کہنے لگا : درحقیقت اب تک میں غلط فہمی کا شکار رہا ہوں

اس کے بعد اس نے مجھ سے درخواست کی کہ مدینے میں قیام کے دوران مختلف موضوعات پر بحث ہوتی رہے ۔ میں نے بھی آمادگی ظاھر کی اور اس نے پر شب مسجد نبوی میں بحث و مباحثہ کی ایک محفل تشکیل پاتی تھی ۔ مدینہ میں تقریبا دس راتیں ہمارا قیام رہا اس دوران مختلف مکاتب فکر کے افراد کا اجتماع ہوتا تھا اور ہم دونوں کے درمیان مختلف موضوعات پر مناظرے ہوتے تھے ۔ آخر کار ، اس حجازی عالم نے ان اعتقادات اور خیالات سے بیزاری کا اظہار کیا جو وہ شیعوں کے بارے میں رکھتا تھا اور اس نے مجھ سے وعدہ کیا وہ میری ان تمام بحثوں کو رسالہ " ام القریٰ " میں شایع کرے گا تاکہ ان لوگوں کے لئے حق آشکار ہو جائے جو حق سے بغض و عناد نہیں رکھتے اور اشتباۃ کا شکار ہیں اور یہ کہ وہ اس رسالے کا ایک نسخہ مجھے بھی بھیجے گا ۔ مگر اس نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ۔ شاید حالات نے اس کا ساتھ نہ دیا ہو اور اس کے مقصد کی راہ میں روکاوٹ بن گئے ہوں

موسوعة الامام الخوئي ( البیان فی التفسير القرآن ) // ج 50 // ص 537

مندرجہ بالا واقعہ خود امام الخوئی رض اپنی تفسیر میں تعلیقات میں بیان کیا ہے