Tuesday, 8 January 2013

SAYED HASNI



امام حسن ع کی تدفین کے حوالے سے بعض حقائق اور بعض الناس کے اعتراضات کے جوابات 

امام حسن ع کی شہادت کے بعد ، یہ بات اھل سنت و اھل تشیع کے معتبر اخبار سے ثابت ہے کہ جناب ام المومنین بی بی عائشہ اور دیگر بنو امیہ نے ان کو رسول اللہ ع کے پہلو میں‌دفن ہونے سے روکا تھا ، جیسا کہ علل الشرائع کی معتبر روایت میں امام صادق فرماتے ہیں 

امام جعفر صادق ع نے فرمایا کہ رسول اللہ کے بعد سب سے پہلی عورت جو خچر پر سوار آئی وہ حضرت عائشہ تھیں وہ خچر پر سوار ہو کر آئیں اور انہوں نے امام حسن ع کو رسول اللہ ع کے پہلو میں دفن کرنے کو منع کر دیا۔

سند پر مختصر بحث 

مندرجہ بالا روایت کی سند کے تمام رجال ثقات میں سے ہیں سوائے حسین بن حسن بن ابان کے ، یہ مختلف فیہ راوی ہے ۔ ابن ولید جو نقاد رجال امامیہ ہیں انھوں نے اس پر اعتماد کیا ہے ۔ علامہ ابن دائود نے محمد بن اورمہ کے ترجمہ میں حسین بن حسن کو ثقہ کہا ہے اور علامہ حلی نے شیخ صدوق رہ کے طریق کو صحیح کہا ہے جس میں حسین بن حسن بن ابان موجود ہیں ۔ واللہ العالم ,والحمد لله رب العالمين

عربی متن 

قال الشيخ الصدوق حدثنا محمد بن الحسن رضي الله عنه قال : حدثنا الحسين بن الحسن ابن أبان ، عن الحسين بن سعيد ، عن النضر بن سويد ، عن هشام بن سالم ، عن سليمان بن خالد ، عن أبي عبد الله " ع " قال أبو عبد الله " ع " أول امرأة ركبت البغل بعد رسول الله صلى الله عليه وآله عائشة جاءت إلى المسجد فمنعت ان يدفن الحسن بن علي مع رسول الله صلى الله عليه وآله

علل الشرائع ج 1 ص 225 باب 161 ح1

معتبر اخبار سے بس اتنا ثابت ہے کہ بی بی عائشہ نے امام حسن ع کو رسول اللہ ع کے پاس دفن ہونے سے روکا تھا مگر جو بات بی بی عائشہ سے منسوب کی جاتی ہے کہ انھوں نے امام حسن ع کے جنازہ پر تیر چلائیں یا چلانے کا حکم دیا ، اس کے بات کے متعلق ہم نے کچھ ماہ قبل ذکر کیا تھا کہ ایسا معتبر اخبار میں ذکر نہیں ہے اور اس کا صدور بی بی عائشہ سے ہونا ثابت نہیں ہے ۔ 

لیکن بعض الناس جو ہر کسی پر تہمت لگانے میں جلد بعض ہیں ، انھوں نے ہم پر یہ تہمت لگائی کہ ہم نے کہا ہے کہ 

"ایسا ہونا بالکل بھی مروی ہی نہیں ہے "، جبکہ ہماری سابقہ تحریر میں ذکر ہے کہ بعض مرسل روایت میں ذکر ہے مگر ان میں بی بی عائشہ کا ذکر نہیں ہے کہ انھوں نے تیر چلایا بلکہ اس کی نسبت مروان کی طرف ہے ، جبکہ یہ روایت مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے اور اس کا قطعی ہونا ثابت نہیں 

چنانچہ بعض الناس نے آیت اللہ مکارم کے دفتر سے استفتا کیا تو ان کا جواب آیا کہ ایسا بعض کتب میں تیر چلانے کا اشارہ ہوا ہے ۔ 

اللہ ، ان بعض الناس کو علم سلیم عطا کرے جو استفتاء‌سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ تیر چلانے والی روایت معتبر ہے اور ان کا قطعی ہونا ثابت ہے ۔ چنانچہ ہم اس حوالے سے نقد بیش کرتے ہیں 

پہلی بات یہ ہے کہ آیت اللہ مکارم کے استفتاء‌میں کہی بھی یہ ذکر نہیں ہے کہ تیر چلانا قوی روایات سے ثابت ہے اور اس کا صدور قطعی ہے ۔ صرف یہ کہا ہے کہ بعض کتب میں اشارہ ہوا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ کتب میں تو ہر قسم کا رطب و یابس موجود ہے تو کیا ان سب رطب و یابس کا معتبر ہونا ثابت ہو جائے گا ۔ چنانچہ آیت اللہ مکارم کے دفتر کے اس فتویٰ‌ سے استدلال کرنا مردود ہے ۔

دوسری بات کہ اصول کافی میں امام حسن ع کی شہادت اور تدفین کے حوالے سے تین روایات ذکر ہوئی ہیں جو کہ بااسناد متصل روایات آئمہ اھل بیت ع سے مروی ہیں جن میں صرف اتنا لکھا ہے کہ بی بی عائشہ نے امام حسن ع کو روضہ رسول میں دفن ہونے سے روکا تھا ، اور اس پر بنی ہاشم ، امام حسین و محمد حنفیہ وغیرہ نے شدید احتجاج کیا اور ان بااسناد متصل روایات میں آئمہ ع نے کہی بھی یہ ذکر نہیں کیا کہ بی بی عائشہ نے تیر بھی چلائے ۔ چنانچہ اگر کسی مرسل روایت میں بغیر کسی شخص کی نسبت کے ، اگر تیر چلانے کا ذکر ہے تو وہ اصول کافی اور علل الشرایع کی معتبر بااسناد متصل روایت کے سامنے اس روایت کی کوئی حیثیت نہیں رہے گے کیونکہ جب متصل سند کے ساتھ آئمہ ع سے صرف اتنا ثابت ہے کہ عائشہ نے روکا تھا ، روضہ رسول میں‌ دفن ہونے سے ، اور تیر چلانے کا کوئی ذکر نہیں تو جو مرسل روایت ہے جس کے ناقل کا معلوم نہیں کون ہے ، اس میں اگر ذکر ہے کہ تیر چلایا کسی نے ، تو متصل سند کے سامنے مرسل روایت کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ وہ اس سے استدلال کرنا مردود ہوگا 

تیسرا یہ کہ بعض الناس نے ذکر کیا ہے کہ شیخ عباس قمی نے منتھی میں مناقب شہر ابن آشوب سے نقل کیا ہے کہ امام حسن ع کے جنازہ پر تیر چلے اور ستر تیر چلے ۔۔۔ مگر جب ہم نے منتھی الامال میں اس روایت کو دیکھا تو وہاں صرف یہ درج ہے کہ روایت میں ذکر ہے کہ امام حسن کے جنازہ پر تیر چلے مگر اس روایت سے استدلال کرنا مردود ہے کیونکہ 

اول : یہ روایت مرسل نقل کی گئی ہے اور صیغہ تمریض کے ساتھ ، جو کہ اس کے ضعف پر دلالت کرتا ہے 

ثانی : اس روایت میں ذکر نہیں ہے کہ تیر کس نے چلایا چنانچہ ہم اس روایت سے قطعی یہ نہیں کہ سکتے کہ تیر جناب عائشہ نے چلایا ہو 

اس کے علاوہ مناقب شہر ابن آشوب میں‌جب ہم نے وہاں مراجع کیا تو وہاں روایت اس طرح درج ہے کہ امام حسن ع کے جنازہ پر تیر چلائے گے اور تیر چلانے والا مروان تھا ۔۔۔ مگر اس روایت کی سند مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے اور اس کا قطعی صدور ممکن نہیں ہے معتبر اخبار اس کی تائید نہیں کرتے ۔ 

بعض نے کسی زیارت کا حوالہ دیا ہے کہ اس میں‌ذکر ہے تیر چلانے کا ، تو اس خاص خبر احاد سے بھی استدلال نہیں‌ کرسکتے اور اس کا صدور بھی قطعی نہیں ، نیز اس میں‌بھی اس جملہ کی نسبت کسی سے ثابت نہیں کہ کس نے تیر چلائے ۔ 

باالفرض ، اگر کوئی ایسی روایت موجود ہے جس میں‌تیر چلانے کا ذکر ہو اور اس کی نسبت بی بی عائشہ کی طرف ہو کہ انھوں نے تیر چلائے تو ایسی خبر ضعیف ہے ، اس کا صدور قطعی ثابت نہیں کیونکہ معتبر علل الشرائع میں‌اور بااسناد متصل روایات جو آئمہ اھل بیت ع سے مروی ہیں‌ ،اصول کافی میں ، اس میں کہی بھی تیر چلانے کا ذکر نہیں‌ ہے صرف اتنا ثابت ہے کہ بی بی عائشہ نے امام حسن ع کو روضہ رسول ع میں دفن ہونے سے روکا اور یہ ہی ظلم امام حسن ہے اور ان کے شدید مصائب میں سے ہے 

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم کو کسی پر جھوٹی تہمت لگانے سے محفوظ رکھے اور صحیح و معتبر اخبار ، جن کا قطعی صادر ہونا آئمہ اھل بیت ع سے ثابت ہو ،استدلال کرنے کی توفقی دے ۔ 

Monday, 7 January 2013

GHULAM MURTUZA



امام زمانہ عہ کے وجود کے منکر لوگون کا اکثر یہ بہانا ہوتا ہے کے امام زمانہ عہ کے وجود کے سلسلے مین ساری روایات ضعیف الاسناد ہین آج ہم انکے اس جھوٹ کو فاش کرینگے۔

پہلی روایت
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْجَعْفَرِيِّ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي مُحَمَّدٍ ( عليه السلام ) جَلَالَتُكَ تَمْنَعُنِي مِنْ مَسْأَلَتِكَ فَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَسْأَلَكَ فَقَالَ سَلْ قُلْتُ يَا سَيِّدِي هَلْ لَكَ وَلَدٌ فَقَالَ نَعَمْ فَقُلْتُ فَإِنْ حَدَثَ بِكَ حَدَثٌ فَأَيْنَ أَسْأَلُ عَنْهُ قَالَ بِالْمَدِينَةِ .

راوی کہتا ہے کے مین نے امام حسن عسکری عہ کھا کے آپ کی جلالت سوال کرنے سے مانع ہے اجازت دیجیے کے مین آپ سے سوال کرون-فرمایا پوچھو مین نے کھا کے آپ کا کوئی فرزند ہے- فرمایا ہان مین نے کھا کے اگر آپ کا انتقال ہوجائے تو ہم کہان سے سوال کرین فرمایا اسی شہر مین (وکلا کے ذریعے).
اصول کا فی جلد 2 صفحہ 276
اس روایت کی سند کو علامہ مجلسی نے مرات العقول مین صحیح کھا ہے۔

دوسری روایت 
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى جَمِيعاً عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ اجْتَمَعْتُ أَنَا وَ الشَّيْخُ أَبُو عَمْرٍو رَحِمَهُ اللَّهُ عِنْدَ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ فَغَمَزَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْ أَسْأَلَهُ عَنِ الْخَلَفِ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا عَمْرٍو إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ شَيْءٍ وَ مَا أَنَا بِشَاكٍّ فِيمَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْهُ فَإِنَّ اعْتِقَادِي وَ دِينِي أَنَّ الْأَرْضَ لَا تَخْلُو مِنْ حُجَّةٍ إِلَّا إِذَا كَانَ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ بِأَرْبَعِينَ يَوْماً فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ رُفِعَتِ الْحُجَّةُ وَ أُغْلِقَ بَابُ التَّوْبَةِ فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُ نَفْساً إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْراً فَأُولَئِكَ أَشْرَارٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ هُمُ الَّذِينَ تَقُومُ عَلَيْهِمُ الْقِيَامَةُ وَ لَكِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أَزْدَادَ يَقِيناً وَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ( عليه السلام ) سَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ أَنْ يُرِيَهُ كَيْفَ يُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَ لَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي وَ قَدْ أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ ( عليه السلام ) قَالَ سَأَلْتُهُ وَ قُلْتُ مَنْ أُعَامِلُ أَوْ عَمَّنْ آخُذُ وَ قَوْلَ مَنْ أَقْبَلُ فَقَالَ لَهُ الْعَمْرِيُّ ثِقَتِي فَمَا أَدَّى إِلَيْكَ عَنِّي فَعَنِّي يُؤَدِّي وَ مَا قَالَ لَكَ عَنِّي فَعَنِّي يَقُولُ فَاسْمَعْ لَهُ وَ أَطِعْ فَإِنَّهُ الثِّقَةُ الْمَأْمُونُ وَ أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا مُحَمَّدٍ ( عليه السلام ) عَنْ مِثْلِ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ الْعَمْرِيُّ وَ ابْنُهُ ثِقَتَانِ فَمَا أَدَّيَا إِلَيْكَ عَنِّي فَعَنِّي يُؤَدِّيَانِ وَ مَا قَالَا لَكَ فَعَنِّي يَقُولَانِ فَاسْمَعْ لَهُمَا وَ أَطِعْهُمَا فَإِنَّهُمَا الثِّقَتَانِ الْمَأْمُونَانِ فَهَذَا قَوْلُ إِمَامَيْنِ قَدْ مَضَيَا فِيكَ قَالَ فَخَرَّ أَبُو عَمْرٍو سَاجِداً وَ بَكَى ثُمَّ قَالَ سَلْ حَاجَتَكَ فَقُلْتُ لَهُ أَنْتَ رَأَيْتَ الْخَلَفَ مِنْ بَعْدِ أَبِي مُحَمَّدٍ ( عليه السلام ) فَقَالَ إِي وَ اللَّهِ وَ رَقَبَتُهُ مِثْلُ ذَا وَ أَوْمَأَ بِيَدِهِ فَقُلْتُ لَهُ فَبَقِيَتْ وَاحِدَةٌ فَقَالَ لِي هَاتِ قُلْتُ فَالِاسْمُ قَالَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ أَنْ تَسْأَلُوا عَنْ ذَلِكَ وَ لَا أَقُولُ هَذَا مِنْ عِنْدِي فَلَيْسَ لِي أَنْ أُحَلِّلَ وَ لَا أُحَرِّمَ وَ لَكِنْ عَنْهُ ( عليه السلام ) فَإِنَّ الْأَمْرَ عِنْدَ السُّلْطَانِ أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ مَضَى وَ لَمْ يُخَلِّفْ وَلَداً وَ قَسَّمَ مِيرَاثَهُ وَ أَخَذَهُ مَنْ لَا حَقَّ لَهُ فِيهِ وَ هُوَ ذَا عِيَالُهُ يَجُولُونَ لَيْسَ أَحَدٌ يَجْسُرُ أَنْ يَتَعَرَّفَ إِلَيْهِمْ أَوْ يُنِيلَهُمْ شَيْئاً وَ إِذَا وَقَعَ الِاسْمُ وَقَعَ الطَّلَبُ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَ أَمْسِكُوا عَنْ ذَلِكَ .
قَالَ الْكُلَيْنِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ وَ حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ أَصْحَابِنَا ذَهَبَ عَنِّي اسْمُهُ أَنَّ أَبَا عَمْرٍو سَأَلَ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مِثْلِ هَذَا فَأَجَابَ بِمِثْلِ هَذَا .

(کیونکہ یہ روایت کافی طویل ہے اس وجہ سے ہم اس روایت کا وہی حصہ نقل کرینگے جو امام زمانہ عہ کے متعلق ہے جس مین کچھہ شیعون نے امام حسن عسکری کے ایک اصحاب سے امام زمانہ عہ کے متعلق پوچھا )

ابواسحاق نے یہ بھی بتایا کے ایسا ہی سوال انہون نے امام حسن عسکری سے بھی کیا تھا انہون نے بھی یہ ہی فرمایا کے عمری اور انکا بیٹا دونون ثقہ ہین پس وہ میری طرف سے تم کو پہنچائین وہ صحیح ہوگا اور جو تم سے کہین وہ میرا ہی قول ہوگا پس انکی بات سنو اور انکی اطاعت کرو وہ دونون ثقہ اور مامون ہین-
یہ قول دو امامون کا تمہارے بارے مین ہے یہ سن کر ابو عمرو سجدے مین گر پڑے اور روئے اور فرمایا پوچھو مین نے کھا کے کیا امام حسن عسکری کے جانشین کو دیکھا ہے فرمایا خدا کی قسم انکی گردن اس طرح کی ہے 
اور اشارہ کیا اپنے ہاتھہ سے- مین نے ان سے کھا اب ایک سوال باقی رہا انہون نے کھا کے وہ بھی بیان کردو مین کھا انکا نام بتادیجیے فرمایا اس سے متعلق سوال کرنا تم پر حرام ہے (کیونکہ وہ سخت تقیہ کا دور تھا )۔
اصول کا فی جلد 2 صفحہ 279
اس روایت کی سند کو علامہ مجلسی نے مرات العقول مین صحیح کھا ہے۔

تیسری روایت 

عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَالِحٍ أَنَّهُ رَآهُ عِنْدَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ وَ النَّاسُ يَتَجَاذَبُونَ عَلَيْهِ وَ هُوَ يَقُولُ مَا بِهَذَا أُمِرُوا .
راوی کھتا ہے کے مین نے صاحب الامر کو حجر اصود کے پاس دیکھا لوگون کے ہجوم مین ایک دوسرے کو کھینچ رہے تھے اور حضرت فرما رہے تھے- تمہین اس کا حکم نہین دیا گیا۔
اصول کا فی جلد 2 صفحہ 281
اس روایت کی سند کو علامہ مجلسی نے مرات العقول مین صحیح کھا ہے۔

ہم نے وقت کی کمی کے پیش نظر صرف یہان پے تین احادیث نقل کی ہین 

ورنہ امام زمانہ عہ کے وجود اور امامت پر متواتر احادیث ہین۔

Saturday, 5 January 2013

hasni bhai

ایک اھم سوال اور اس کا اھم جواب

سوال : جناب میرزا جواد تبریزی نے آیت اللہ العظمیٰ السید فضل اللہ رض کے اجتھاد پر کلام کیا تھا ؟ اس کی حقیقت کیا ہے اور آپ اس کے کلام پر کیا نقد فرمائیں گے ؟

جواب :

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کسی بھی فقیہ کی مرجعیت و فقاہت کا تعین اس کی تحقیق ، دروس اور علمی قابلیت کے حساب سے کیا جاتا ہے نہ کہ یہ دیکھا جائے کہ فلاں فقیہ نے فلاں فقیہ کے خلاف گواہی دی تو اس فلاں کے کہنے پر فلاں کی مرجعیت ثابت نہیں ۔
الحمداللہ ! حضرت آیت اللہ العظمیٰ السید محمد حسین فضل اللہ رض کا اجتہاد ، ان کی فقاہت پر کوئی شک و شبہ نہیں بلکہ ان کی تحقیقی کتب ، درس خارج کی ابحاث سے ان کی فقاہت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

جہاں تک رہی بات کہ آیت اللہ العظمیٰ فضل اللہ رض کے خلاف 40 سے زیادہ مراجع نے فتویٰ دیا تھا تو پہلی بات یہ ہے کہ جو بعض الناس ، ایک مدلس شخص کی ویب سائٹ سے جو لنک شیئر کرتے ہیں ، اس لنک میں جو فتاویٰ ہیں ان میں سے 90 % استفتات جعلی ہیں یا پھر ان میں کوئی ضال و مضل والی بات ہی نہیں ہے بلکہ ان میں ایک تاریخی موضوع پر سوال کیا گیا ہے اور اس کا جواب دیا گیا ہے ۔ اس میں نہ آیت اللہ العظمیٰ السید فضل اللہ رض کو ضال و مضل کہا گیا ہے اور نہ ہی کو ان کے اجتھاد پر بات

چنانچہ ! میں مومنین کو انتباہ کروں گا کہ وہ اس مدلس شخص کی ویب سائٹ اور غلاۃ کے فتنہ سے بچ کر رہے کیونکہ ان کا کام فتنہ و فساد ڈالنا ہے ۔

اب جہاں تک رہی بات کہ جناب مرزا جواد تبریزی صاحب نے آیت اللہ العظمیٰ السید فضل اللہ رض کی مرجعیت پر سوال اٹھایا ، اور کہا کہ السید رض کی ترویج وغیرہ جائز نہیں ۔۔۔

تو ہم جناب مرزا جواد تبریزی کے اس کلام پر نقد اس طرح کریں گے کہ مرزا جواد تبریزی کا یہ کلام ، "مات المفتی ، مات الفتویٰ‌ "کا مصداق ہے یعنی مفتی مر گیا ، ساتھ میں اس کا فتویٰ بھی مر گیا ۔ یہ اس لئے کہ جناب جواد تبریزی صاحب نے یہ فتویٰ صادر کرنے میں جلد بازی سے کام لیا ، اس کے متعلق خود آیت اللہ العظمیٰ السید فضل اللہ رض اپنی زندگی میں فرماتے تھے کہ مرزا جواد تبریزی صاحب کو میرے متعلق کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے مجھ سے رابطہ ضرور کر لیتے اور جو باتیں میرے متعلق ، ان کو پہنچائی گئی ہیں ، ان کی تصدیق لازمی کرا لیتے ، مگر افسوس انھوں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ میں کوئی مجہول شخص نہیں ہوں

خیر ! جناب مرزا جواد تبریزی صاحب کے اگر فتویٰ کو مان لیا جائے جو السید فضل اللہ رض کے اجتھاد کے متعلق ہے کہ السید رض کا اجتھاد ثابت نہیں اور اس کی ترویج نہیں کرنی چاہیئے ، تو پھر ان تمام جید فقہاء کے اجتھاد پر بھی سوالیہ نشان لگے گا جنہوں نے آیت اللہ العظمیٰ السید فضل اللہ رض کے اجتھاد و فقاہت کی تائید کی اور ان کو اجازہ اجتھاد دیا ، جن میں سر فہرست مجاھد آیت اللہ العظمیٰ منتظری رض ہیں جنہوں نے آیت اللہ العظمیٰ السید فضل اللہ رض کے اجتھاد کی تائید کرتے ہوئے ان کو اجازہ اجتھاد دیا ، یاد رہے کہ آیت اللہ العظمیٰ منتظری رض فقہی لحاظ سے اعلم اور جید فقہی تھے ۔

اس کے ساتھ اگر ہم جناب مرزا جواد تبریزی کے اس کلام کو مان لیں تو پھر ہم کو ان کثیر فقہاء کے اجتھاد پر بھی سوالیہ نشان لگانا پڑے گا جنہوں نے آیت اللہ العظمیٰ السید فضل اللہ رض کی وفات کے بعد ان کی تقلید پر باقی رہنے کو جائز کہا ہے جن میں - آية الله العظمى الشيخ يوسف صانعي ، - آية الله العظمی مکارم الشيرازي ، آية الله العظمى الشيخ محمّد ابراهيم الجنّاتي ،- آية الله العظمى الأستاذ السيد كاظم الحائري ،- آية الله السيد كمال الحيدري ،- المرجع الشيخ محمد اليعقوبي وغیرہ فقہاء‌شامل ہیں ، جنہوں نے آیت اللہ العظمیٰ فضل اللہ رض کی وفات کے بعد السید رض کو فقیہ و مجتھد مانتے ہوئے ان کی تقلید پر باقی رہنے کو جائز قرار دیا ۔

معاذاللہ اگر السید رض ضال و مضل ہوتے یا جناب تبریزی صاحب کے فتویٰ کے مطابق ان کی ترویج جائز نہ ہوتی تو پھر یہ جید فقہاء ، السید رض کے اجتھاد کی گواہی نہ دیتے ۔ چنانچہ جناب میرزا جواد تبریزی کے ایک فتویٰ کو ماننے سے ہمیں کثیر جید فقہا‌ء‌ کی فقاہت و اجتھاد کا انکار کرنے پڑے گا ۔ معاذاللہ

نیز اگر ہم فتاویٰ پر ہی رہنا چاہتے ہیں تو ایک مجتھد نے دوسرے مجتھد کے خلاف فتاویٰ دیے ہیں کہ فلاں کا اجتھاد ثابت نہیں ، ایسی مثالیں ، تاریخ تشیع میں موجود ہیں ، ایک معاصر مثال ہی کو ہم لیتے ہیں کہ آیت اللہ اسحاق فیاض کے مطابق جناب مرجع آیت اللہ محمد یعقوبی مجتھد نہیں ہیں اور نہ ہی جناب آیت اللہ کمال حیدری کا اجتھاد ثابت ہے تو کیا اب ہم آیت اللہ اسحاق فیاض کے اس فتویٰ پر عمل کرتے ہوئے مرجع یعقوبی حفظہ اللہ اور جناب کمال حیدری حفظہ اللہ کے اجتھاد و فقاہت کا انکار کر دیں گے جبکہ ان مذکورہ دو شخصیات کے اجتھاد کی بنیاد ان کی تحقیق اور ان کے دروس ابحاث خارج ہیں جن کے مطابق ان کا اجتھاد ثابت شدہ ہے

نیز جناب میرزا جواد تبریزی صاحب نے جو آیت اللہ العظمیٰ السید فضل اللہ رض کے متعلق بعض استفتات کے جوابات دیے تھے ، ان کا رد اور اس پر تعلیقات خود السید فضل اللہ رض نے لکھی ہیں ، جو کہ ایک کتاب کی صورت میں چھپ بھی چکی ہیں ۔ اس کتاب کا نام ہے : "تعلیقات آیت اللہ العظمیٰ السید فضل اللہ رض علی الاسئلتہ التی وجھت آیت اللہ جواد تبریزی "

اس کتاب میں امام فضل اللہ رض نے آیت اللہ جواد تبریزی کے تمام ان جوابات جو السید فضل اللہ رض کے متعلق تھے ان پر تعلیقات لکھ کر ان کا رد کیا ہے ۔ الحمد اللہ

آخر میں یہ ہی عرض کروں گا کہ کسی بھی فقیہ کی فقاہت و اجتھاد کسی دوسرے شخص کی رائے کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ اس کی قابلیت ، تحقیق اور دروس و تالیفات اس کی فقاہت کا منہ بولتا ثبوت ہوتے ہیں اور آیت اللہ العظمیٰ‌السید فضل اللہ رض کی تحقیق ، دروس ابحاث خارج ، تالیفات ان کے اجتھاد کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

مومنین سے بھی عرض کروں گا کہ وہ اگر آیت اللہ العظمیٰ السید فضل اللہ رض کے متعلق جاننے چاہتے ہیں تو السید فضل اللہ رض کے آثار کا مطالعہ کریں ، ان کو خود حقائق سے آگہی حاصل ہو جائے گی کیونکہ السید فضل اللہ رض کے آثار عین اسلام 

اور تشیع کے مطابق ہیں‌ ، السید رض کی فکر ، اھل بیت ع کی فکر ہے

وسلام

محب و شاگرد آیت اللہ العظمیٰ السید فضل اللہ رض
 
 

sayed hasni taraak e aula

قرآن ، ترک اولیٰ اور حضرت آدم ع کی خطا

ترک اولیٰ سے مراد یہ ہے کہ انسان بہتر کام کو چھوڑ کرکم درجہ کاکام انجام دے ۔ قرآن میں انبیاء ع سے منسوب ہر واقعہ کو ہم ترک اولیٰ پر محمول نہیں کرسکتے ، آج ہم حضرت آدم ع کے واقعہ کو دیکھتے ہیں کہ آیا یہ ترک اولیٰ تھا یا نہیں .

علماء کے درمیان اس مسئلہ پر اختلاف ہے کہ حضرت آدم ع نے شجرہ ممنوعہ کا پھل کھا کر گناہ کیا یا نہیں ؟ شیعہ علماء زیادہ تر یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ گناہ نہیں بلکہ ترک اولیٰ تھا ۔ لیکن شیعہ علماء کا ایک گروہ اس بات کا قائل ہے کہ حضرت آدم ع کا یہ فعل گناہ تھا ۔ ان دونوں گروہوں کے اختلاف رائے کی بنیادی وجہ ، فہم قرآن میں ان کا اختلاف نہیں ہے بلکہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اول الذکر گروہ کا عقیدہ یہ ہے کہ انبیاء و رسل قبل از نبوت و رسالت بھی معصوم ہوتے ہیں ، لہذا جن آیات و احادیث میں ان کی طرف گناہ کی نسبت دی گئی ہے ، ان کی تاویل کر کے وہ گناہ سے ترک اولیٰ مراد لیتے ہیں ۔ دوسرا گروہ پہلے سے بنائے ہوئے عقائد کی روشنی میں آیات کی تاویل کی بجائے آیات کے واضح اور صریح بیانات کی بنیاد پر یہ کہتا ہے کہ انبیاء و رسل کے قبل از نبوت و رسالت معصوم ہونے پر کوئی قرآنی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ وہ حضرت آدم ع کے واقعہ میں استعمال ہونے والے الفاظ سے استدلال کرتے ہی ہیں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے ، مثلا وہ آدم ع کو شجرہ ممنوعہ کا پھل کھانے کی ممانعت ان الفاظ میں کی گئی ہے :

لَا تَقْرَبَا هَـٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ﴿٣٥: بقرہ﴾

تم دونوں اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم ظالمین میں سے ہو جائو گے

اگر قرآن مجید کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں بھی ممانعت کے لئے "قریب مت جائو" کے الفاظ استعمال کئے ہیں ، اس سے مراد عام ممانعت نہیں بلکہ اس کا مقصد ممانعت پر زور دینا اور اس میں تاکید پیدا کرنا ہے ، مثلا "

وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا ﴿٣٢: بنی اسرائیل ﴾

زنا کے قریب نہ جائو ، یہ حد سے بڑھا ہوا گناہ اور بہت برا راستہ ہے

لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ (نساء // 43)

جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جائو

وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ ( بنی اسرائیل // 34)

ہتیم کے مال کے قریب نہ جائو

وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ سورہ بقرہ // 222)

حالت حیض میں عورتوں کے قریب نہ جائو یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں

معلوم ہوا کہ ممنوعہ کا پھل کھانا حرام اور گناہ نہ ہوتا تو اس کے لئے "لا تقربا" کا لفظ اسعتمال نہ ہوتا

اسی طرح فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ ، یعنی "ورنہ تم ظالمین مین سے ہوجائو گے " ,کے الفاظ بھی نہی اور ممانعت کی شدت کو ظاھر کرتے ہیں ، کیا اللہ تعالیٰ یہ نہ کہ سکتا تھا کہ اس درخت کے قریب سے نہ کھائو ورنہ تم ترک اولیٰ کے مرتکب ہوجائو گے ؟

اسی طرح سورہ طہ کی مذکورہ آیت "وَ عصیٰ آدمُ ربَّہ فغویٰ "یعنی آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گیا ، میں عصی اور غوٰی کے الفاظ قابل غور ہیں ۔ عصیٰ یعنی معصیت سے فعل ماضی ہے جس کے معنی ہیں "نافرمانی " ۔

قرآن شریف میں "عصی" کا لفظ متعدد مرتبہ استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ شدید نافرمانی کے لئے آیا ہے جیسا کہ

فَعَصَىٰ فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ ﴿١٦: مزمل﴾

تو فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی

وَتِلْكَ عَادٌ ۖ جَحَدُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا رُسُلَهُ (ہود // آیت 59 )

یہ قوم عاد ہے جس نے پروردگار کی آیتوں کا انکار کیا اس کے رسولوں کی نافرمانی کی

بنابرایں عصی ٰ کے معنی ترک اولیٰ کرنا ہر گز درست نہیں ہے ، خاص طور پر جب اس کے بعد فغوٰی کا لفظ بھی آرہا ہو ، جب اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو بارگاہ قرب سے دھتکارا تو اس نے کہا

لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٨٢﴾ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ﴿٨٣:ص ﴾

یعنی میں تیرے خالص بندوں کے سوا ان سب کو ضرور بہکا کر چھوڑوں گا

آدم کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے وَ عصیٰ آدمُ ربَّہ فغویٰ یعنی آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بہک گیا سورہ طہ آیت نمبر ۱۲۱

اب ظاھر سی بات ہے کہ "لا تقربا" ، فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ ، وعصیٰ ،اور فغویٰ جیسے الفاظ جس ممانعت میں استعمال ہوئے ہوں ، انہیں نہی تحریمی نہ ماننا اور اس نہی کی مخالفت کو ترک اولیٰ کا نام دینا زیادتی ہے

اگر حضرت آدم کا فعل " ترک اولیٰ " ہوتا تو اللہ جو کہ حکیم ہے ، اپنی کتاب حکیم میں ترک اولیٰ پر دلالت کرنے والے الفاظ استعمال کرتا ، اللہ تعالیٰ کو اپنے رسولوں کی عزت کا ہم سے زیادہ خیال ہے

جب حضرت آدم ع نے توبہ کر لی اور اللہ نے ان کی توبہ قبول کی تو ، اللہ نے ان کو چن لیا نبوت کے لئے اور عصمت پر بھی فائز ہو گئے ، جیسا کہ سورہ طہ میں آیت 122 میں اللہ کہتا ہے

ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدَىٰ ﴿١٢٢﴾

پھر خدا نے انہیں چن لیا اور ان کی توبہ قبول کرلی اور انہیں راستہ پر لگادیا
 
post 
 
جی ، لوح محفوظ پر سب کچھ تحریر ہے اور اللہ کے علم میں ہے کہ اتنے انبیاء آئیں گے ، البتہ جو کہا جاتا ہے کہ ہر نبی پیدائشی نبی ہوتا ، یہ قرآن کی رو سے ثابت نہیں بلکہ ہر نبی کا معاملہ الگ ہے جیسے آدم کو نبوت ان کی توبہ کے بعد عطا کی ، موسیٰ کو بھی نبوت ان کی درمیانی عمر میں عطا کی ، اسی طرح رسول اعظم ع کو بھی نبوت 40 سال کی عمر میں ملی ، البتہ عیسیٰ نبی کا معاملہ الگ ہے ، کیونکہ عیسیٰ نبی کی پیدائش معجزانہ تھی ، اور اسی لئے اللہ نے ان کو بچپن میں نبوت عطا کی تاکہ وہ اپنی والدہ کی پاک دامنی کا ثبوت دیں سکیں یعنی الغرض ، ہر نبی کا معاملہ الگ ہے ، ہم کسی ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کرسکتے
2
Blaghat Hussain Sayed Hasni Sahab, Aap ne apni tehrir maen Hazrat Aadam a.s. k Makhsoos kirdar se mutaaliq Hamarey Maktab k 2 garohon ki muzaad fikr se rooshanas kia. Taajub hae k wo dono garoh Ahl-e-Bet a.s. se final faesla Q nahin letey k aadam ka gandam khana Gunah tha ya k nahin. Maamla agar Aadam tak hi rehta tau ghanimat thi lijye ab zara Soora-e-Alfatah ka tarjuma padhye, " HUM NE AAP KO YE FATH-E-MOBIN ISSI LIYE ATA KI HAE TA K ALLAH TAALA AAP K WO GUNAH JO PEHLEY SADIR HO CHUKEY HAEN YA JO ISS K BAAD SAR'ZAD HON GE, MAAF KAR DE. ( 48-102 ), Hamarey aksar wo Deeni bhai jo Asmat-e-Anbia k qael nahin wo bhi yahi farmatey haen k ...... Hazraat Anbia a.s. ko naboowat hasil honey k baad se agar lagh'zisheyn sarzad nahin hoti theen tau ye iss maen unn ki zati seerat-o-kirdar ka koi kamal nahin hota tha, Allah unn se laghzisheyn sadir nahin honey deta tha. Sochney ka muqaam hae k agar yahi soorat thi tau phir RasoolUllah s.a.w.a.w. ki zindagi ko hamarey liye USWA-E-HASANA kis tarah qarar diya ja sakta hae ? Jis hasti se Khuda khud Gunah na sar'zad honey de, uss ki zindagi hum insanon k liye kis tarah namoona ban sakti hae ?? Wo hazraat yebhi kehtey haen k Allah Taala pehley tau unn se gunah sarzad kara deta hae aur phir unn ki maghferat ka saman paeda karta hae. Sochney ka muqaam hae k wo Anbia Karaam a.s. ko kis mushkil ka samna padta tha k wo khud inn gunahon k zimadar nahin, Allah unn se ye sab kuchh karata tha. Inn hastiyon k paas iss baat ko sabit karney ka koi zarya nahin tha k wo nahin balkey Khuda zimedar hae aur uss ne LOH-E-MEHFOOZ maen bhi yahi likh rakhkha hae. Soora-e-Fatah Nabi-e-Kareem s.a.w.a.w. ki zindagi k bil'kul aakhri ayyam maen nazil hooi, Maasiyat ya ZANB k tarj

3
بلاغت صاحب ! آپ نے سورہ فتح کی آیت نمبر 2 نقل کی ہے اور وہاں لفظ "ذنب" استعمال ہوا ہے ، اور جس سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں مراد گناہ ہے ، حالانکہ عربی لغت میں "ذنب" کا مطلب گناہ نہیں ہوتا بلکہ ذنب سے مراد وہ کام ہوتا جس کے انجام سے انسان کو تکلیف اٹھانی پڑے ، انسان کی جو خطائیں ہوتی ہیں ان کو گناہ بھی اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ان خطائوں اور نافرمانی کی وجہ سے اللہ ان کو ذوزخ میں ڈالے گا ، جس سے ان کو تکلیف ہو گی
اب یہاں سورہ فتح کی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ فتح مکہ کی سورت میں اللہ نے رسول اللہ کے وہ مصائب جو انھوں نے اسلام کی سر بلندی ، تبلیغ ، کفار کی سختیوں کی صورت میں جو مصائب و تکالیف اٹھائی ہیں ، وہ دور کر دی ہیں کیونکہ فتح مکہ کے بعد اسلام پھیل چکا تھا ،اللہ نے ان سب پچھلی و آگے آنے والی تکالیف کو دور کر دیا ۔چنانچہ اس آیت کا رسول اللہ ع کی عصمت کے حوالے سے کوئی تعلق نہیں ۔

 

Tuesday, 1 January 2013

GHULAM MURTUZA

سوال: ہم آپ کی ولایت تکونیہ پر رائے کو جانتے ہیں ، سوال یہ ہے کہ آپ ان روایات کے بارے میں کیا فرمائیں گے جس میں ذکر ہے کہ مولا علی ع نے بطور اعجاز زمینی مراحل کو طے کیا ؟

جواب: ایسی بعض روایات موجود ہیں جو اس معنی پر دلالت کرتی ہیں جیسے کہ ایک روایت میں ذکر ہے کہ امام علی ع مدائن کی طرف گئے جب سلمان فارسی کی وفات ہوئی تو ان کی تجھیز و تدفین کے لئے گئے ، اور اسی طرح دوسری روایت میں پاتے ہیں کہ امام جواد ع اپنے والد کے غسل و تدفین کے لئے بطور اعجاز ایک مقام سے دوسرے مقام گئے اور لیکن یہ روایات صحیح نہیں ہیں ۔جو مسئلہ ہے کہ امام کو صرف امام ہی غسل دیتا ہے اور اس کا جنازہ پڑھتا ہے ، اس کا شیخ مفید رہ اپنی کتاب (تصحيح الاعتقاد) میں انکار کرتے ہیں اور اسی طرح یہ ہمارے نزدیک بھی ثابت نہیں ہے کہ امام ع کو امام ہی غسل دے گا اور امام کی جنازہ امام ہی پڑھائے گا ،پھر امام علی ع کیسے مدائن کی طرف سلمان فارسی کی نماز جنازہ اور تدفین کے لئے جاتے ہیں اور جبکہ وہ ابوذر الغفاری کے مثل ہو اور ان دوسرے اصحاب میں سے تھے جو ولایت امام ع کو مانتے تھے اور اس عقیدہ پر عمل پیرا تھے اور لیکن امام ع نے ابوذر کے ساتھ یہ معاملہ نہیں کیا (کہ ان کے لئے بھی بطور اعجاز جا کر غسل و تدفین کرتے )بلکہ ان کی وفات ایسی ہی ہوئی جیسے دوسرے لوگوں کی ہوتی ہے اور ان کی تدفین بھی ایسی ہی ہوئی جیسے باقی لوگ دفن ہوتے ہیں ، پس یہ روایات اکثر لوگوں کے درمیان مشہور ہیں ، سند کے لحاظ سے قابل اعتبار نہیں ہیں‌۔

سید فضل اللہ
التاريخ: 5 شعبـان 1430 هـ الموافق: 15/08/2009 م

GHULAM MURTUZA

قدسی اور محسن علی نے مصعب بن زبیر والی بات پر اعتراضات اٹھائے ہین مین آپکو حوالے دیتا ہون وہ پیسٹ کردین مین اگر جواب دونگا تو یہ لوگ شروع ہوجائینگے۔ محسن نے اعتراض اٹھایا ہے کے صرف ناسخ التواریخ نے اس شادی کو بیان کیا ہے تو یہ بات غلط ہے اسکو حافظ ابن کثیر نے بھی اپنی تاریخ مین لکھا ہے اور اسکا یہ حوالا ہے
حافظ ابن کثیر الدمشقی لکھتے ہیں ۔
وكان لمصعب من الولد عكاشة وعيسى الذي قتل معه وسكينة وأمهم فاطمة بنت عبد الله بن السائب، وعبد الله ومحمد، وأمهما عائشة بنت طلحة، وأمها أم كلثوم بنت أبي بكر الصديق، وجعفر ومصعب وسعيد وعيسى الأصغر والمنذر لأمهات شتى، والرباب وأمها سكينة بنت الحسين بْن علي بن أَبِي طالب رضي اللّه عنه ۔
البدایہ و النہایہ // جلد 8 // صفحہ 351 // دار إحياء التراث العربي ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر شیعہ علماء نے بھی تو اعمتاد کیا ہے صادق روحانی ، مکارم، شھید ثانی وغیرہ اس شادی کو مانتے ہیں شھید ثانی صادق روحانی نے تو اس نکاح سے استدلال کرتے ہیں غیر ہاشمی سے نکاح پر۔
یہ رہا صادق روحانی کی کتاب کا حوالا
وعلى ذلك فلا اشكال في تزويجه صلى الله عليه وآله عايشة ، ولا في تزويجه ابنته
من عثمان ، وتزويج الامير ( عليه السلام ) ابنته من عمر ، وتزويج مصعب بن الزبير
سكينة بنت الحسين ( عليه السلام ) ، وتزويج عبيد الله بن عمر بن عثمان اختها فاط مة
وغير ذلك ، بل هذا كله يدل على ما اخترناه من جواز تزويج المؤمنة بالمخالف
http://gadir.free.fr/sadik/fokh/
كتاب فقه الصادق
یہاں پر آیت اللہ صادق روحانی ایک شیعہ لڑکی کا غیر شیعہ لڑکے سے نکاح کے جواز کی یہ دلیل دے رہے ہیں کہ رسول اللہ ع کا اپنی دو بیٹاں کا نکاح عثمان سے کرنا ، جناب امیر ع کا ام کلثوم کا نکاح عمر کے ساتھ کرنا ،سکینہ بنت الحسین ع کا معصب بن زبیر کےساتھ نکاح کرنا ، عبیداللہ بن عمر بن عثمان کے ساتھ جناب فاطمہ بنت الحسین کا دوسرا نکاح کرنا پہلے شوھر کی وفات کے بعد یہ سب اس پر دال ہیں کہ مومنہ کا غیر مومن یعنی سنی کے ساتھ نکاح جائز ہے۔
یہ رہا شھید ثانی کی کتاب کا حوالا
وزوج النبي صلى الله عليه وآله وسلم ابنته عثمان، وزوج ابنته زينب بأبي العاص بن الربيع (3)، وليسا من بني هاشم. وكذلك زوج على عليه السلام ابنته ام كلثوم من عمر (4)، وتزوج عبد الله بن عمرو بن عثمان فاطمة بنت الحسين عليه السلام (5)، وتزوج مصعب بن الزبير أختها سكينة (6)، وكلهم من غير بني هاشم وأوضع نسبا
مسالك الأفهام
الشهيد الثاني ج 7 // 409

Sunday, 30 December 2012

sayed hasni


اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے ـ قرآن کی روشنی میں 

قوله سبحانه: ﴿ قُلِ اللّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ﴾ «الرعد - 16».

ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا ہے، سب پر غالب!

وقوله سبحانه: ﴿ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ ﴾ «الزمر - 62».

اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے

وقوله سبحانه: ﴿ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ لَّا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ ﴾ «غافر - 62».

وہی اللہ (جس نے تمہارے لیے یہ کچھ کیا ہے) تمہارا رب ہے ہر چیز کا خالق اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کدھر سے بہکائے جا رہے ہو؟

وقوله سبحانه: ﴿ ذَلِكُمُ اللّهُ رَبُّكُمْ لا إِلَهَ إِلاَّ هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ ﴾ «الأنعام - 102».

یہ ہے اللہ تمہارا رب، کوئی خدا اس کے سوا نہیں ہے، ہر چیز کا خالق، لہٰذا تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز کا کفیل ہے

وقوله سبحانه: ﴿ هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاء الْحُسْنَى.. ﴾ «الحشر - 24».

وہ اللہ ہی ہے جو تخلیق کا منصوبہ بنانے والا اور اس کو نافذ کرنے والا اور اس کے مطابق صورت گری کرنے والا ہے اس کے لیے بہترین نام ہیں ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے اُس کی تسبیح کر رہی ہے، اور وہ زبردست اور حکیم ہے

وقوله سبحانه: ﴿ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاء وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ ﴾.«فاطر – 3»

کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق بھی ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو؟ کوئی معبود اُس کے سوا نہیں، آخر تم کہاں سے دھوکا کھا رہے ہو؟

وقوله سبحانه: ﴿بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ ۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ«الأنعام - 101».

وہ تو آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اس کا کوئی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے جبکہ کوئی اس کی شریک زندگی ہی نہیں ہے اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے

وقوله سبحانه: ﴿ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَكَ اللّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ ﴾ «الأعراف - 54»

اُسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے بڑا با برکت ہے اللہ، سارے جہانوں کا مالک و پروردگار


تحقیق : السید حسنی